ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے
ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے لیکن نہ دل نہ زاویہ ہائے نظر ملے چھلنی ہیں پاؤں کانٹوں بھری رہ گزر ملے ہم کو ہماری شان کے شایاں سفر ملے میں بھی کچھ اپنے کرب کا اظہار کر سکوں مجھ کو بھی کچھ سلیقۂ عرض ہنر ملے بے مانگے پائیں بوند بھی پیاسے تو جی اٹھیں دریا بھی لے کے خوش نہ ہوں ...