اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے
اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے پانی پہ ستم گر کی تصویر بنائی ہے اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ...