ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے
ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے کبھی دل میں کبھی آنکھوں میں چھپایا ہے مجھے اور سب لوگ تو مے خانہ سے گھر لوٹ گئے مہرباں رات نے سینے سے لگایا ہے مجھے ہر حسیں انجمن شب مجھے دہراتی ہے جانے کس مطرب آشفتہ نے گایا ہے مجھے سنگ سازوں نے تراشا ہے مرے پیکر کو تم نے کیا سوچ کے پتھر پہ ...