شاعری

برسوں میں تجھے دیکھا تو احساس ہوا ہے

برسوں میں تجھے دیکھا تو احساس ہوا ہے ہر زخم تری یاد کا اندر سے ہرا ہے وہ کون تھا کس سمت گیا ڈھونڈ رہا ہوں زنجیر در دل کوئی کھٹکا کے گیا ہے جی چاہے اسے وقت کے ہاتھوں سے اڑا لے جو روح کی خاموش گپھاؤں میں ملا ہے پتھر کے صنم پوجو کہ مٹی کے خداوند ہر باب کرم دیر ہوئی بند پڑا ہے پوچھو ...

مزید پڑھیے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے تھک گئے تو خواب کی دہلیز پر سوتے رہے لوگ لہجے کا سہانا پن سخن کی نغمگی شہر کی آبادیوں کے شور میں کھوتے رہے کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں لوگ اپنے بند کمروں ...

مزید پڑھیے

تھا حرف شوق صید ہوا کون لے گیا

تھا حرف شوق صید ہوا کون لے گیا میں جس کو سن سکوں وہ صدا کون لے گیا اک میں ہی جامہ پوش تھا عریانیوں کے بیچ مجھ سے مری عبا و قبا کون لے گیا احساس بکھرا بکھرا سا ہارا ہوا بدن چڑھتی حرارتوں کا نشہ کون لے گیا باتوں کا حسن ہے نہ کہیں شوخی بیاں شہر نوا سے حرف و صدا کون لے گیا میں کب سے ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں میں کوئی نہ اپنے قول و قسم کا سچا تھا

ہم دونوں میں کوئی نہ اپنے قول و قسم کا سچا تھا آپس میں بس ایک پرانا ٹوٹا پھوٹا رشتہ تھا دل کی دیواروں پہ ہم نے آج بھی سیلن دیکھی ہے جانے کب آنکھیں روئی تھیں جانے کب بادل برسا تھا خواب نگر تک آتے آتے ٹوٹ گئے ہم جیسے لوگ اونچی نیچی راہ بہت تھی سارا رستہ کچا تھا پورا بادل پوری بارش ...

مزید پڑھیے

دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو

دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو مرنے والے کا کوئی دیر تو ماتم کر لو وہ ابھی لوٹے ہیں ہارے ہوئے لشکر کی طرح ساز ہائے طرب انگیز ذرا کم کر لو سنسناتے ہیں ہر اک سمت ہواؤں کے بھنور اپنے بکھرے ہوئے اطراف کو باہم کر لو اتنے تنہا ہو تو اس ساعت بے مصرف میں اپنی آنکھوں میں کوئی چہرہ ...

مزید پڑھیے

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے جن کی دیوار ہی اچھی تھی نہ در اچھے تھے ان کی جنت میں رہے ہم تو یہ احساس ہوا اپنے ویرانوں میں ہم خاک بسر اچھے تھے بند تھی ہم پہ وہی راہ گلستاں کہ جہاں سایہ کرتے ہوئے دو رویہ شجر اچھے تھے عمر کی اندھی گپھاؤں کا سفر لمبا تھا وہ تو کہئے کہ ...

مزید پڑھیے

دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں

دل کے تاتار میں یادوں کے اب آہو بھی نہیں آئینہ مانگے جو ہم سے وہ پری رو بھی نہیں دشت تنہائی میں آواز کے گھنگرو بھی نہیں اور ایسا بھی کہ سناٹے کا جادو بھی نہیں زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی ان سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں آنسو بھی نہیں چاہتے ہیں رہ مے خانہ نہ قدموں کو ملے لیکن ...

مزید پڑھیے

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا ہماری راہ میں بس نقش پا ہمارا تھا اس ایک ساعت شب کا خمار یاد کریں بدن کے لمس کو جب ہم نے مل کے بانٹا تھا وہ ایک لمحہ جسے تم نے چھو کے چھوڑ دیا اس ایک لمحے میں کیف وصال سارا تھا پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا نہ جانے کون تھا جو سامنے سے ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے دامنوں میں پھول کی کچھ پتیاں رکھ دو

بچھڑتے دامنوں میں پھول کی کچھ پتیاں رکھ دو تعلق کی گرانباری میں تھوڑی نرمیاں رکھ دو بھٹک جاتی ہیں تم سے دور چہروں کے تعاقب میں جو تم چاہو مری آنکھوں پہ اپنی انگلیاں رکھ دو برستے بادلوں سے گھر کا آنگن ڈوب تو جائے ابھی کچھ دیر کاغذ کی بنی یہ کشتیاں رکھ دو دھواں سگرٹ کا بوتل کا ...

مزید پڑھیے

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے ہمیں دو چار تھے جو حلقۂ انکار تک آئے وہ تپتی دھوپ سے جب سایۂ دیوار تک آئے تو جاتی دھوپ کے منظر لب اظہار تک آئے وہ جس کو دیکھنے اک بھیڑ امڈی تھی سر مقتل اسی کی دید کو ہم بھی ستون دار تک آئے طرب زادوں کی راتیں حسن سے آباد رہتی تھیں سخن زادے تو بس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 160 سے 5858