شاعری

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں

اب میں خود کو آزمانا چاہتی ہوں غم میں کھل کر مسکرانا چاہتی ہوں یہ تماشہ بھی دکھانا چاہتی ہوں آگ پانی میں لگانا چاہتی ہوں ہجرتوں کا بوجھ اب اٹھتا نہیں ہے مستقل کوئی ٹھکانا چاہتی ہوں دشمنوں کا امتحاں میں لے چکی ہوں دوستوں کو آزمانا چاہتی ہوں مجھ کو زینتؔ سونے دیتی ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے

تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے خود کو کھویا ہے تو اب پیار ترا پایا ہے جس کی خاطر مری آنکھوں کے دیے روشن تھے آج آنگن میں وہ مہتاب اتر آیا ہے شب فرقت میرے آئینۂ دل میں ہمدم تو نہ آیا تو ترا عکس ابھر آیا ہے اک نہ اک دن اسے احساس ندامت ہوگا بے سبب اس نے مرے پیار کو ٹھکرایا ہے اور ...

مزید پڑھیے

صاف آئینہ ہے کیوں مجھے دھندلا دکھائی دے

صاف آئینہ ہے کیوں مجھے دھندلا دکھائی دے گر عکس ہے یہ میرا تو مجھ سا دکھائی دے مجھ کو تو مار ڈالے گا میرا اکیلا پن اس بھیڑ میں کوئی تو شناسا دکھائی دے برباد مجھ کو دیکھنا چاہے ہر ایک آنکھ مل کر رہوں گا خاک میں ایسا دکھائی دے یہ آسماں پہ دھند سی چھائی ہوئی ہے کیا گر ابر ہے تو ہم کو ...

مزید پڑھیے

سمجھوتہ

ملائم گرم سمجھوتے کی چادر یہ چادر میں نے برسوں میں بنی ہے کہیں بھی سچ کے گل بوٹے نہیں ہیں کسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے اسی سے میں بھی تن ڈھک لوں گی اپنا اسی سے تم بھی آسودہ رہوگے! نہ خوش ہوگے نہ پژمردہ رہوگے اسی کو تان کر بن جائے گا گھر بچھا لیں گے تو کھل اٹھے گا آنگن اٹھا لیں گے ...

مزید پڑھیے

مٹھو میاں

مٹھو میاں چپ رہو ٹیوں ٹیوں مت کرو لال مرچ کھاؤ گے اپنی کہے جاؤ گے میری بات بھی سنو کل سبق پڑھایا تھا آج تم نے دہرایا ہوم ورک تو کرو چونچ میں کیا درد ہے رنگ یہ کیوں زرد ہے دال کھانا کم کرو ٹیوں ٹیوں مت کرو کتنی بار سمجھاؤں کتنی بار دہراؤں ایک لفظ تو کہو ٹیوں ٹیوں مت کرو کیا کہا سنوں ...

مزید پڑھیے

مسلم مسلم فسادات

صبح دم جو دیکھا تھا کیا ہرا بھرا گھر تھا ڈانٹتی ہوئی بیوی بھاگتے ہوئے بچے رسیوں کی بانہوں میں جھولتے ہوئے کپڑے بولتے ہوئے برتن جاگتے ہوئے چولھے اک طرف کو گڑیا کا ادھ بنا گھروندا تھا دور ایک کونے میں سائیکل کا پہیا تھا مرغیوں کے ڈربے تھے کابکیں تھیں، پنجرا تھا تیس گز کے آنگن ...

مزید پڑھیے

تعمیل وفا کا عہد نامہ

خاموش ہیں صاحبان منصف حیران ہیں رہبران مخلص لاشوں کا کوئی وطن نہیں ہے مردوں کی کوئی زباں نہیں ہے اجڑے ہوئے گھر کی خامشی میں نوحے کی ندائیں ایک سی ہیں ماتم کا ہے لہجہ ایک جیسا رونے کی صدائیں ایک سی ہیں آنکھوں کی سیاہیاں ہیں مدھم پلکوں کی قلم ہے پارہ پارہ خوناب ہوا ہے مصحف ...

مزید پڑھیے

مشورہ

مجھے یہ ڈر ہے کسی آفتاب کی گرمی تری نظر کے ہزار آئنوں کو توڑ نہ دے مجھے یہ وہم کسی ماہتاب کی ٹھنڈک لہو سے گرمئ فکر و عمل نچوڑ نہ لے تو اپنی ذات سے خود چشمۂ ادا و صدا تجھے جہاں کی ہواؤں کے رخ سے کیا نسبت تو اپنے آپ ہی خود انجمن ہے خود ہی چراغ ہجوم حلقہ بگوشاں سے تجھ کو کیا نسبت یہ ...

مزید پڑھیے

تن نحیف سے انبوہ جبر ہار گیا

اب آنسوؤں کے دھندلکوں میں روشنی دیکھو ہجوم مرگ سے آواز زندگی کو سنو سنو کہ تشنہ دہن مالک سبیل ہوئے سنو کہ خاک بسر وارث فصیل ہوئے ردائے چاک نے دستار شہ کو تار کیا تن نحیف سے انبوہ جبر ہار گیا سنو کہ حرص و ہوس قہر و زہر کا ریلا غبار و خار و خش و خاک ہی نے تھام لیا سیاہیاں ہی مقدر ہوں ...

مزید پڑھیے

پل صراط

میں جس میں رہتی ہوں میرا گھر ہے یہاں کی دیوار و در کے اندر مری جوانی کے تانے بانے ہر اک رگ سنگ میں رواں ہیں یہاں پہ نکھری ہوئی سفیدی مرے بڑھاپے کی آنے والی سحر کا اعلان کر رہی ہے یہاں کی چھت میرے دل سے نکلی ہوئی دعا ہے جو بارگاہ خدا میں مقبول ہو کے سایہ کیے ہوئے ہے یہاں کی کھڑکی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 162 سے 5858