دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے
لیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے


ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیں
کل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے


وہ گل بھی زہر‌ خند کی شبنم سے اٹ گئے
جو شاخسار درد محبت کی آس تھے


میری برہنگی پہ ہنسے ہیں وہ لوگ بھی
مشہور شہر بھر میں جو ننگ‌ لباس تھے


اک لفظ بھی نہ میری صفائی میں کہہ سکے
وہ سارے مہرباں جو مرے آس پاس تھے


تیرا تو صرف نام ہی تھا تو ہے کیوں ملول
باعث مرے جنوں کا تو میرے حواس تھے


وہ رنگ بھی اڑے جو نظر میں نہ تھے کبھی
وہ خواب بھی لٹے جو قرین قیاس تھے