شاعری

پتھراؤ

درد تھمتا بھی نہیں حد سے گزرتا بھی نہیں بھول کر تجھ کو عجب حال ہوا ہے دل کا سالہا سال سے دل مندمل ہوتا ہوا گھاؤ ہے ڈوبتی ہے کوئی حسرت نہ ابھرتی ہے امید بحر آلام میں طوفاں ہے نہ ٹھہراؤ ہے افق زیست پہ طلعت ہے نہ تاریکی ہے دور تک دھند کا موہوم سا کجراؤ ہے ساحل چشم پہ تارے ہیں نہ موتی ...

مزید پڑھیے

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں عشق تو وہ ہے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں کام مکمل کرنے سے بھی شام مکمل کب ہوتی ہے ایک پرندہ رہ جاتا ہے باقی سب گھر آ جاتے ہیں اپنے دل میں گیند ...

مزید پڑھیے

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ دروازو کچھ وقت گزارو دیوارو چپ ہو جاؤ کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو تم سے بھی پوچھیں گے اک دن دریاؤ چپ ہو جاؤ دیکھ لیا نا آخر مٹی مٹی میں مل جاتی ہے خاموشی سے اپنا اپنا حصہ لو چپ ہو جاؤ اس ویران سرا کی مالک ایک پرانی ...

مزید پڑھیے

ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے

ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے ہمارے خواب دئے جائیں دل بنایا جائے دکھائی دیتا ہے تصویر جاں میں دونوں طرف ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے اگر جلایا گیا ہے کہیں دیے سے دیا تو کیا عجب کہ کبھی دل سے دل بنایا جائے شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم کبھی ملو کہ اسے معتدل بنایا ...

مزید پڑھیے

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے اس منظر سے دیکھو بارش ہونے والی ہے سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے اپنی مرضی سے سب چیزیں ...

مزید پڑھیے

صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے اوپر اوپر خاک اڑائی گہرائی سے ختم ہوئے ویرانہ بھی ہم تھے خاموشی بھی ہم تھے دل بھی ہم یکسوئی سے عشق کیا اور یکتائی سے ختم ہوئے دریا دلدل پربت جنگل اندر تک آ پہنچے تھے اسی بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے کتنی آنکھیں تھیں جو اپنی ...

مزید پڑھیے

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے یہ گھنا شہر کہ جنگل در و دیوار کا ہے رنگ پھر آج دگر برگ دل زار کا ہے شائبہ مجھ کو ہوا پر تری رفتار کا ہے اس پہ تہمت نہ دھرے میرے جنوں کی کوئی مجھ پہ تو سایہ مرے اپنے ہی اسرار کا ہے صرف یہ کہنا بہت ہے کہ وہ چپ چاپ سا تھا اس کو اندازہ مرے شیوۂ ...

مزید پڑھیے

نیا عشق

ایک عرصے سے جذبات و احساس کی وادیٔ عشق کی بستی نئے پرانے سبھی مکان تمناؤں کے کھلی چھتیں عہد و پیماں کی بند جھروکے کے آرزوؤں کے نیم شکستہ دیوار و در ارمانوں کے امیدوں کے اونچے نیچے لمبے چوڑے گیلے اور پتھریلے رستے راحت کے اشجار سکوں کی دوب طرب کی خود رو بیلیں رنگ برنگی سوچ کے ...

مزید پڑھیے

پہلی برف باری

نیلگوں ابر چھٹا سرمئی شام کے سورج کی طلائی کرنیں مرمریں برف کے بلور بدن پر برسیں جھومتے پیڑوں کی باہوں میں مہکتے جھونکے پینگ سی لے کے پری چہرہ منڈیروں کی جبیں پر امڈے دھند کی ملگجی آغوش میں خوابیدہ مکانوں کی چھتوں نے اپنی چھاتیاں کھول کے انگڑائیاں لیں زلزلہ تھا کہ مرا وہم تھا ...

مزید پڑھیے

انجانا دکھ

ہرے بھرے لہراتے پتوں والا پیڑ اندر سے کس درجہ بودا کتنا کھوکھلا ہو سکتا ہے مجھ سے پوچھو میں اک ایسے ہی چھتنار کے نیچے بیٹھا اس کی چھاؤں سے اپنے سفر کی دھوپ کا دکھڑا پھول رہا تھا آنے والے وقت کی ٹھنڈی گیلی مٹی رول رہا تھا اپنے آپ سے بول رہا تھا میں بھی کتنا خوش قسمت ہوں جیون کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 149 سے 5858