فقیہ شہر سے رشتہ بنائے رہتا ہوں
فقیہ شہر سے رشتہ بنائے رہتا ہوں شریف گھر کا ہوں عزت بچائے رہتا ہوں مگر یہ راہ تو اس طرح طے نہیں ہوگی میں دونوں پاؤں زمیں پر جمائے رہتا ہوں اکیلے شخص پہ دشمن دلیر ہوتے ہیں تو ساتھ میں کوئی قصہ لگائے رہتا ہوں بنائے کچھ نہیں بنتی زمیں پہ جب مجھ سے تو آسمان کو سر پر اٹھائے رہتا ...