شاعری

سائے کے لیے ہے نہ ٹھکانے کے لیے ہے

سائے کے لیے ہے نہ ٹھکانے کے لیے ہے دیوار تو آنگن میں اٹھانے کے لیے ہے دیکھو تو ہر اک شخص کے ہاتھوں میں ہیں پتھر پوچھو تو کہیں شہر بنانے کے لیے ہے رکھ دیتے ہیں پتھر مری تحریر کے اوپر کہتے ہیں یہ کاغذ کو دبانے کے لیے ہے در دل کا سہیلؔ آج ذرا بند نہ کرنا اک شخص ابھی لوٹ کے آنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

جب شام بڑھی رات کا چاقو نکل آیا

جب شام بڑھی رات کا چاقو نکل آیا اس بیچ تری یاد کا پہلو نکل آیا وہ شخص کہ مٹی کا تھا جب ہاتھ لگایا چہرہ نکل آیا کبھی بازو نکل آیا کچھ روز تو دو جسم اور اک جان رہے ہم پھر سلسلۂ حرف من و تو نکل آیا دیکھا کہ ہے بازار یہاں نفع و ضرر کا وہ تیر کہ تھا دل میں ترازو نکل آیا تھا بند چراغ ...

مزید پڑھیے

عشق میرا غرور تھا ان کا

عشق میرا غرور تھا ان کا مجھ پہ ہر پل سرور تھا ان کا دور کس نے کیا اندھیروں کو مجھ کو لگتا ہے نور تھا ان کا بس نگاہوں سے قتل کر بیٹھے اور تو کیا قصور تھا ان کا بعد برسوں کے وہ ملے مجھ سے کچھ تو مقصد ضرور تھا ان کا دل لٹایا تو کیا کیا حاصل وہ تو کب سے حضور تھا ان کا

مزید پڑھیے

کل تک جو کچھ نہ تھا مرا ایمان ہو گیا

کل تک جو کچھ نہ تھا مرا ایمان ہو گیا اک عام آدمی سے میں انسان ہو گیا دیکھے تھے خواب میں نے بہت زندگی کے دوست کیا گھر اسی لئے مرا سنسان ہو گیا خود کو بھی بھول بیٹھا تھا میں تیرے واسطے تو اور کیوں کسی کی یہاں جان ہو گیا ملنے کی چاہ مل کے بڑھی تجھ سے اور بھی پورا اگرچہ دل کا یہ ارمان ...

مزید پڑھیے

دیکھ تیری صحبتوں کا کیا اثر آیا ہے آج

دیکھ تیری صحبتوں کا کیا اثر آیا ہے آج ایک آوارہ پرندہ پھر سے گھر آیا ہے آج تیری فرقت میں بھی قربت اس طرح محسوس کی چاند میں چہرہ ترا مجھ کو نظر آیا ہے آج زندگی میں کھوئے دیکھے سب یقیں جاتا رہا تو ملا تو پھر یقیں اک لوٹ کر آیا ہے آج آ کے تم نے سچ یہ ہے قسمت مری دی ہے سنوار یا ترس ...

مزید پڑھیے

یوں امتحان میرا لیتے رہے مسائل

یوں امتحان میرا لیتے رہے مسائل اک ہاتھ پر تھا دریا اک ہاتھ پر تھا ساحل سوکھی پڑیں ہیں آنکھیں ٹوٹا ہوا ہے دل بھی کہتے ہیں عشق جس کو ہوتا بہت ہے مشکل اس بادہ کش کو دیکھو مستی میں مست ہے یوں ہے اپنے آپ ہی میں جیسے وہ ایک محفل ہر نقش پا کو تیرے ہم چوم کر چلیں گے اپنی محبتوں میں تو کر ...

مزید پڑھیے

جب یہ پنے کتابوں کے گل جائیں گے

جب یہ پنے کتابوں کے گل جائیں گے مول بھی کیا کہانی کے ڈھل جائیں گے راستے تو رہیں گے ہمیشہ وہیں چلنے والے ہی ان پر بدل جائیں گے یاد پھر غم کئے تو نے اپنے اگر جم گئے اشک جو پھر پگھل جائیں گے رائیگاں یہ دعائیں نہیں جائیں گی دیکھنا اب مقدر بدل جائیں گے لے کے امید کانٹوں پہ چلتا ...

مزید پڑھیے

تیری ذمہ داریوں سے بھاگنا ممکن نہیں

تیری ذمہ داریوں سے بھاگنا ممکن نہیں تجھ میں میں یا مجھ میں تو یہ جاننا ممکن نہیں دل کے دروازے پہ اس کے دستکیں دیتے رہو کیسے رہتا ہے وہ پھر ناآشنا ممکن نہیں ہو گئی ہے کیسی دنیا دیکھ میرے دوست آج ہے پرایا کون اپنا جاننا ممکن نہیں کتنی بھی پڑھ لو کتابیں کتنے بھی دعوے کرو پھر بھی ...

مزید پڑھیے

ہنگاموں کے قحط سے کھڑکی دروازے مبہوت

ہنگاموں کے قحط سے کھڑکی دروازے مبہوت آنگن آنگن ناچ رہے ہیں سناٹوں کے بھوت بوجھل آنکھیں پتھریلے لب اجڑے ہوئے رخسار سب کے کاندھوں پر رکھے ہیں چہروں کے تابوت الگ الگ خود ہی کر لے گی لمحوں کی میزان کس کو فرصت کون گنے اب برے بھلے کرتوت چمک رہے ہیں مایوسی کے تیز نکیلے دانت دل کے ...

مزید پڑھیے

ہرا شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دے

ہرا شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دے زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دے کہیں نہ راہ میں سورج کا قہر ٹوٹ پڑے تو اپنی یاد مرے آس پاس رہنے دے بکھر چکے ہیں سماعت کے تلخ شیرازے اب اپنے نرم لبوں کی مٹھاس رہنے دے وہ دیکھ ڈھ چکیں وہم و گماں کی دیواریں یقین چیخ رہا ہے قیاس رہنے دے بڑا لطیف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 129 سے 5858