شاعری

اک ترا درد ہے تنہائی ہے رسوائی ہے

اک ترا درد ہے تنہائی ہے رسوائی ہے تین لفظوں میں مری زیست سمٹ آئی ہے زندگی الجھے ہوئے خواب کا ابہام کبھی کبھی اس شوخ کی اٹھتی ہوئی انگڑائی ہے کتنے پیچیدہ ہیں جذبات غزل کیا کہیے خامہ حیران ادھر سلب یہ گویائی ہے ہو وہ پھولوں کا تبسم کہ غزالوں کا خرام جو ادا آئی ہے تجھ میں وہ نکھر ...

مزید پڑھیے

نہیں اس دشت میں کوئی خضر ہے

نہیں اس دشت میں کوئی خضر ہے کہ بس میں ہوں مری گرد سفر ہے حقیقت آخری یہ مختصر ہے کہیں سنسان سا تاریک گھر ہے نہ سنگ راہ ہے نہ راہ بر ہے بھٹکتا دل ہے اور دھندلی نظر ہے جو منزل ہی سے ہو غافل مسافر بھلا کیا لطف جو روشن نظر ہے نہ عالم ہم سے خوش نہ خود سے ہم خوش یہ بینا آنکھ بھی کیا درد ...

مزید پڑھیے

اور کر لیں گے وہ کیا اب ہمیں رسوا کر کے

اور کر لیں گے وہ کیا اب ہمیں رسوا کر کے اب جو آئے ہیں تو جائیں گے تماشا کر کے اپنی تخلیق کے اکمال سے سودا کر کے کون اس پردے میں بیٹھا ہے تماشا کر کے اک زمانہ ہے پریشان معمہ کیا ہے تم تو غائب ہوئے کچھ کام ادھورا کر کے تیرے جلوے کی ہوس ہم کو ہر اک رنگ میں ہے سوئے بت خانہ چلے جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کیوں اور زخم سینے پہ کھاؤ ہو دوستو

کیوں اور زخم سینے پہ کھاؤ ہو دوستو کاہے کسی سے آس لگاؤ ہو دوستو اک آبرو بچی ہے سو رکھیو سنبھال کے کس پاس کیا غرض لئے جاؤ ہو دوستو پہنچے وہیں ہیں آج جہاں سے چلے تھے ہم اب راہ کون اور دکھاؤ ہو دوستو اس طبع سے تو خود ہی پریشان ہے یہ دل ٹھیس اس کو اور کاہے لگاؤ ہو دوستو جور و جفائے ...

مزید پڑھیے

بجلی کہیں گرائے زمانے گزر گئے

بجلی کہیں گرائے زمانے گزر گئے جلوہ اسے دکھائے زمانے گزر گئے تم سے نگاہ ہٹتی نہ تھی وہ بھی وقت تھا لمحات اب وہ آئے زمانے گزر گئے کیوں چھانتے ہو خاک میاں کوئے یار کی اس کو تو خط جلائے زمانے گزر گئے کیسے کہیں کہ رابطہ اس سے رہا نہیں جس کو ہمیں بھلائے زمانے گزر گئے اک بار اس کی دید ...

مزید پڑھیے

سر تسلیم مرا خم نہیں ہونے دیتا

سر تسلیم مرا خم نہیں ہونے دیتا وہ مرا رب مجھے برہم نہیں ہونے دیتا غیب سے آج بھی کرتا ہے حفاظت میری سر نگوں وہ مرا پرچم نہیں ہونے دیتا جب بھی ملتا ہے مجھے زخم نیا دیتا ہے وہ ملاقات کو مرہم نہیں ہونے دیتا شعر کہنے کا وہ انداز ملا ہے مجھ کو جوش محفل مجھے مدھم نہیں ہونے دیتا اب تو ...

مزید پڑھیے

تنہا قمر کو چھوڑ کے تارے چلے گئے

تنہا قمر کو چھوڑ کے تارے چلے گئے غربت میں جیسے یار ہمارے چلے گئے ہم زندگی کو ایسے گزارے چلے گئے جیسے کہ کوئی قرض اتارے چلے گئے تم کیا بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا خوش قسمتی کے سارے ستارے چلے گئے جو پھل گرے زمیں پہ وہ یاروں نے چن لیے ہم پتھروں کو پیڑ پہ مارے چلے گئے اس نے بڑے فریب سے ...

مزید پڑھیے

دستار بہت روئی دینار بہت رویا

دستار بہت روئی دینار بہت رویا جب دام لگے میرے بازار بہت رویا کچھ بھی نہ ہوا حاصل بے کار بہت رویا جب ہوش میں آیا تو مے خوار بہت رویا منہ زور تلاطم نے چھوڑا نہ سفینے کو جب بس نہ چلا کوئی پتوار بہت رویا ہم نے تو صنم تیری چپ چاپ پرستش کی لیکن یہ دل بسمل ہر بار بہت رویا تحریر میں جب ...

مزید پڑھیے

اے دل ناداں تجھے سمجھائیں کیا

اے دل ناداں تجھے سمجھائیں کیا آرزوئے وصل میں مر جائیں کیا ایک روشن دل ہمارے پاس ہے ہم اندھیروں سے بھلا گھبرائیں کیا جب سفر کی کوئی بھی منزل نہیں ہم بھی خاک رہ گزر بن جائیں کیا کیا کریں جب کھیت چڑیاں چگ گئیں اب اگر پچھتائیں تو پچھتائیں کیا بے وفا کو با وفا کہنے لگیں عشق کی رسم ...

مزید پڑھیے

ہر ایک برگ چمن مشک بار آئے گا

ہر ایک برگ چمن مشک بار آئے گا خزاں کے بعد گل نو بہار آئے گا بلندیاں تو مشقت سے ہاتھ آتی ہیں گلوں کے ساتھ یقینی ہے خار آئے گا مجھے یقیں ہے کسی دن تو اے جفا پیشہ تجھے بھی میری وفاؤں پہ پیار آئے گا ہمارا عشق کرامت سے کم نہیں جاناں تمہارے حسن پہ اس سے نکھار آئے گا اگر میں تم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 116 سے 5858