شاعری

سنہری دھوپ کھلی ہے کئی دنوں کے بعد

سنہری دھوپ کھلی ہے کئی دنوں کے بعد پھر ان سے بات ہوئی ہے کئی دنوں کے بعد سروں میں شام سجی ہے کئی دنوں کے بعد غزل کو راہ ملی ہے کئی دنوں کے بعد کرن کرن ترا چہرہ زمیں میں اترا ہے کہ ایسی صبح ہوئی ہے کئی دنوں کے بعد یہ کس نے چار دشاؤں میں عطر چھڑکا ہے فضا مہک سی گئی ہے کئی دنوں کے ...

مزید پڑھیے

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی کعبہ و دیر سے مطلب نہیں ہوتا کوئی سچ تو یہ ہے کہ میں ہر بزم میں تنہا ہی رہا یوں مگر پاس مرے کب نہیں ہوتا کوئی جان و ایماں سہی سب کچھ سہی تو مرے لیے ہائے کس منہ سے کہوں سب نہیں ہوتا کوئی ایک سایہ تھا جسے میں نے پکڑنا چاہا وہ جو ہوتا تھا کوئی اب ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی آپ میں اسیر ہوں میں

اپنے ہی آپ میں اسیر ہوں میں اپنے زنداں میں بے نظیر ہوں میں ایک شہر خیال ہے میرا اپنے اس شہر کا امیر ہوں میں بڑھتا جاتا ہے زندگی کا خط ایک گھٹتی ہوئی لکیر ہوں میں کیوں بلاتے ہو اب جہاں والو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوں میں قرض اس دل پہ الفتوں کے ہیں دوستوں کا کرم امیر ہوں میں کھچ کے ...

مزید پڑھیے

وہ مزاج دل کے بدل گئے کہ وہ کاروبار نہیں رہا

وہ مزاج دل کے بدل گئے کہ وہ کاروبار نہیں رہا مری جان تیرے فراق میں کوئی سوگوار نہیں رہا تری آرزو کہیں کھو گئی مری جستجوئے فضول میں مجھے عین وقت وصال میں ترا انتظار نہیں رہا نہ خرد رہی نہ جنوں بچا دل پر غرور یہ کیا ہوا تجھے اپنے آپ پہ خود بھی اب ذرا اعتبار نہیں ہے دم اولیں کے وہ ...

مزید پڑھیے

ذوق پہ شوق پہ مٹ جانے کو تیار اٹھا

ذوق پہ شوق پہ مٹ جانے کو تیار اٹھا عشق کا درد لیے پھر ترا بیمار اٹھا ہم نے میخانے میں جانی نہیں کرنی تفریق جو بھی بیٹھا مری محفل میں گنہ گار اٹھا وصل محبوب اٹھا رکھیں گے کب تک کہ پھر آج فرہاد ہے تیشہ کا طلب گار اٹھا گم شدہ لیلیٰ کو کب تک وہ چھپا رکھیں گے جب کہ دیوانے کو سودائے رخ ...

مزید پڑھیے

روشنی کیا پڑی ہے کمرے میں

روشنی کیا پڑی ہے کمرے میں دھول اڑنے لگی ہے کمرے میں مجھ کو گھیرے ہوئے ہے میرا وجود یہ حقیقت کھلی ہے کمرے میں مجھ کو باہر کہیں نکلنا ہے رات ہونے لگی ہے کمرے میں اپنی سانسوں کو سن رہا ہوں میں کس قدر خامشی ہے کمرے میں اک ذرا سا ترا خیال آیا روشنی ہو گئی ہے کمرے میں

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت اشارے تھے اور رستہ بھی

ہر ایک سمت اشارے تھے اور رستہ بھی ملال یہ ہے کہ آیا نہ ہم کو چلنا بھی ہماری پیاس مکمل ہو تو قدم بھی اٹھیں رکھے ہیں سامنے دریا بھی اور صحرا بھی بجھے چراغ تو حیرانیاں کچھ اور بڑھیں ہمارے ساتھ ہے اب تک ہمارا سایا بھی اک ایسی لہر اٹھی ڈوبنے کا خوف اٹھا اب ایک جیسے ہیں منجدھار بھی ...

مزید پڑھیے

کوئی شے ہے جو سنسناتی ہے

کوئی شے ہے جو سنسناتی ہے ایک دہشت سی پھیل جاتی ہے زندگی کٹ رہی ہے سائے میں دھوپ آتی ہے لوٹ جاتی ہے جیسے جنگل پکارتا ہو مجھے رات بھر اک صدا سی آتی ہے گونج اٹھتا ہے گہرا سناٹا نیند جب دھڑکنوں کو آتی ہے کیسی یادوں کے دیپ جل اٹھے دور تک روشنی نہاتی ہے اتنی غزلوں میں کوئی اچھی ...

مزید پڑھیے

مے کشی کی شراب کی باتیں

مے کشی کی شراب کی باتیں توبہ توبہ جناب کی باتیں میں نے کب پی حساب سے یا رب مجھ سے پھر کیوں حساب کی باتیں تو غفور‌‌ الرحیم ہے بے شک پھر یہ کیسی عذاب کی باتیں ایروں غیروں سے ہم نہیں کرتے دل خانہ خراب کی باتیں کتنا کھل کھل کے لوگ کرتے ہیں شرمساری حجاب کی باتیں دل نشیں دل فریب ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا ہوا ہے بتا اے دل نہ سکون ہے نہ قرار ہے

تجھے کیا ہوا ہے بتا اے دل نہ سکون ہے نہ قرار ہے کبھی اس حسین کی چاہ ہے کبھی اس نگار سے پیار ہے جو سمجھ میں آئے وہ بات کیا یہ معاملات ہیں عشق کے کہ نقاب رخ پہ رہے مگر ہے یقین یہ وہی یار ہے یہ ہیں اپنے ذہن کے عکس سب یہاں اصل کیا ہے خیال کیا یہ خزاں کے رنگ ہیں بے خبر تو سمجھ رہا ہے بہار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 115 سے 5858