شاعری

ایک منصوبے میں در پیش دشواریاں

میں روشنی میں اتنی غلطیاں کرتا ہوں جتنی لوگ اندھیرے میں نہیں کرتے ہوں گے میں ان دنوں ایک منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوں ہر طرح کی ناکامیوں سے پاک منصوبہ تاکہ جیسے ہی موقع ملے میں خود کو قتل کر دوں مجھے ایسے چوراہے کا بھی انتخاب کرنا ہے جس کے عین وسط میں لاش کو اس طرح لٹکانا ممکن ...

مزید پڑھیے

بعد از مرگ

میں مر چکا ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں اب کیا کرو گے تم نہلاؤ گے مجھے اور پوچھو گے بھی نہیں میں نہانا چاہتا ہوں یا نہیں یہ بھی نہیں دیکھو گے پانی گرم ہے یا نہیں بھول جاؤ گے کہ اچھا نہیں لگتا مجھے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے نہ پینے کے لیے پھر لباس تبدیل کرو گے میرا اور یہ بھی نہیں پوچھو ...

مزید پڑھیے

اپنے لیے ایک نوحہ

اچھی طرح دیکھ چکا ہوں میں مقتولوں میں نہیں اس لیے میرا شمار قاتلوں میں کیا جانا چاہیئے یہ عبادت گاہیں جس کا گھر کہی جاتی ہیں میری ایک دوست اسے تلاش کر رہی ہے اسے اب تک یہ اطلاع نہیں ملی کہ وہ ایک لمبے سفر پر جا چکا ہے وہ مر چکا ہے یہ راز تو ایک پاگل نے بھی جان لیا تھا رات تو ...

مزید پڑھیے

تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،

تمہیں پیار ہے، تو یقین دو، مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو، تمہیں فکر ہو، مرے حال کی، کوئی گفتگو ہو ملال کی، جو خیال ہو، نہ کیا کرو، نہ کہا کرو مری فکر ہے میں عزیز تر ہوں جہان سے یا ایمان سے، نہ کہا کرو، نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر، نہ اداس ہو، نہ ہی خوش ...

مزید پڑھیے

آزادی کے دیوانے

ہم آزادی کے دیوانے یہ دنیا فرزانوں کی اس پاپی سنسار میں بابا کون سنے دیوانوں کی مسجد مندر سب کے اندر راج غلامی کرتی ہے دولت لے کر نام خدا کا گھر گھر دھرنا دھرتی ہے کوٹھی بنگلے گورے سانپوں کی اک ایسی بستی ہے جو بھارت کے بھولے بھالے انسانوں کو ڈستی ہے ان سے بچ کر چلنا بابا یہ قاتل ...

مزید پڑھیے

دو پیسے میں تین کھلونے

دو پیسے میں تین کھلونے دو پیسے میں تین سادہ اور رنگین یہ چینی کی گڑیا ہے ایک طرف سے ننھی منی ایک طرف سے بڑھیا ہے جیب میں یوں آ جاتی ہے یہ جیسے ذرا سی پڑیا ہے سادہ اور رنگین دو پیسے میں تین کھلونے دو پیسے میں تین یہ مٹی کی گھوڑی ہے اس کی مانگ بہت ہے لیکن اس کی قیمت تھوڑی ہے ساتھ اگر ...

مزید پڑھیے

میری پہلی نظم

کیا بچے سلجھے ہوتے ہیں جب گیند سے الجھے ہوتے ہیں وہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیں دن بیتے یاد دلاتے ہیں وہ کتنے حسین بسیرے تھے جب دور غموں سے ڈیرے تھے جو کھیل میں حائل ہوتا تھا نفرین کے قابل ہوتا تھا ہر اک سے الجھ کر رہ جانا رک رک کے بہت کچھ کہہ جانا ہنس دینا باتوں باتوں پر برسات کی کالی ...

مزید پڑھیے

گھر

چھپے ہیں اشک دروازوں کے پیچھے چھتوں نے سسکیاں ڈھانپی ہوئی ہیں دکھوں کے گرد دیواریں چنی ہیں بظاہر مختلف شکلیں ہیں سب کی مگر اندر کے منظر ایک سے ہیں بنی آدم کے سب گھر ایک سے ہیں

مزید پڑھیے

سائیڈ ایفیکٹس

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورت دل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے کچھ ثقل سماعت کی شکایت بیکار کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے ممکن ہے خرابی کوئی ہو جائے جگر میں ہاں آپ کو یرقان بھی ہو سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

کہیں اور ہی چلنا ہوگا

میرے گیتوں میں محبت نے جلائے ہیں چراغ اور یہاں ظلمت زردار کے گھیرے ہیں تمام سب کے ہونٹوں پہ ہوس ناک امیدوں کی برات کوئی لیتا نہیں الفت بھرے گیتوں کا سلام اے مرے گیت! کہیں اور ہی چلنا ہوگا تجھ کو معلوم نہیں آدم و حوا کی زمیں اپنے ناسور کو پردے میں چھپانے کے لیے گل کئے دیتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 814 سے 960