شاعری

رات اور سیتا

اندھیارے کی کالی مٹیا من کو پھاڑے کھائیں شمشانوں کے ہاگھ ڈکاریں اندھے کنوئیں بلائیں پگڈنڈی کے شیش ناگ جی پگ پگ ڈستے جائیں پیڑ راکشس بادل راون گھر بھتنے بن جائیں دھیان کے اندر پتھ پے بیتی گھڑیاں اڑتی آئیں میں سیتا بن باس کو نکلی برہ کی اگنی جلائے آگے آگے رام جی ناہیں پیچھے ...

مزید پڑھیے

گلی میں آواز دو

گلی میں آواز دو کوئی ہے یہاں کوئی ہے تو اپنی نیکر سنبھالتا چھ برس کا بچہ حرام زادو گلی کے ہر اک مکاں سے نکلے مکاں سے نکلے گا اور کہے گا یہاں سبھی ہیں سبھی ہیں بس ایک میں نہیں ہوں

مزید پڑھیے

دیوار کی تین چیزیں

یہ سامنے دیوار پر جو کوئلے سے ۷۸۶ لکھا ہے اور جو زندہ آباد ہے اور فاختہ کی چونچ میں زیتون کی جو شاخ ہے یہ تین چیزیں وہ ہیں جوان خوب صورت بچیوں نے اپنے ابو کے لیے تخلیق کی ہیں تاکہ ابو چرخ پر جھولے تو اک اللہ کو اور اپنے زندہ باد کو اور اپنی چھوٹی سی حقیقت کو نہ بھولے جھولتے ہی ...

مزید پڑھیے

حنا رنگ ہاتھوں میں

تو کیا زندگی نے تمہیں وہ سبھی کچھ دیا جس کی تم آرزو مند تھیں کہ میری طرح تمنا کے کشکول خالی رہے اور بخشش کا لمحہ تمہیں اور نادار کر کے گزر بھی گیا مجھے یہ بتایا گیا ہے تمہاری امیدوں کی شاداب فصلوں پہ جب سنگ باری ہوئی تو ٹوٹے ہوئے خواب کی کرچیاں اپنے احساس کی ساری ویرانیوں میں ...

مزید پڑھیے

ہیولے

سمندروں کے مہیب طوفاں میرے عزائم کے ساحلوں سے شکست کھا کر پلٹ چکے ہیں میں کوہساروں کی ہستبوں سے بھی آسماں کا وقار بن کر الجھ چکا ہوں میں جنگلوں کی ہواؤں کا زور توڑ دیتا رہا ہوں اپنے نفس کی شوریدہ سطوتوں سے مرے تفکر کی گرم رفتاریوں سے لرزاں رہے ہیں صحراؤں کے بگولے یہ ذکر ہے اس ...

مزید پڑھیے

گلدان

سالہا سال بیابان گماں کو سینچا خون ادراک سے آب جاں سے تب کہیں اس میں ہویدا ہوئے افکار کے پھول پھول جن کو مرے بیٹے تری فرحت کے لئے شیشۂ روح کے گل داں میں سجا لایا ہوں اور چپکے سے یہ گل داں میں نے رکھ دیا ہے تری پڑھنے کی نئی میز پہ یوں جیسے اس میز کی تکمیل تھی اس کی محتاج اور سمجھتا ...

مزید پڑھیے

ہابیل چپ ہے

کب تلک گیہوں ککڑی پیاز اور مسور ہی کھاتے رہیں اپنے اجداد کے سب گناہوں کا بوجھ اب اٹھاتے رہیں ہم جو قابیل قاتل کی اولاد ہیں جس طرح کے بھی ہیں کس کی ایجاد ہیں ہم نے چکھا نہیں کوئی جنت کا پھل ہم نے دیکھا نہیں اپنے اجداد کا کوئی آج اور نہ کل کیوں اتار گئی ہم پہ ایسی ہی بھوک اور ...

مزید پڑھیے

تلاش

دسمبر کے دالان میں اس چمکتی ہوئی آفتابی تمازت کو روح میں اتارے کرن در کرن تم کسے دیکھتی ہو خنک سی ہواؤں کی ان سرسراتی ہوئی انگلیوں میں جو اک لمس محسوس کرنے لگی ہو وہ کیا ہے کوئی واہمہ ہے؟ حقیقت ہے کوئی؟ کہ اک خواب ہے جو سر راہ آ کر ملا ہے شب و روز مصروفیت میں گھری ہو کوئی کام بھی ...

مزید پڑھیے

مجھے کیا پڑی ہے

ہے ساون کی پہلی جھڑی اور زمیں ان گنت آنسوؤں سے دھلی ہے مگر ایک منظر بھی نکھرا نہیں ہے پرندوں کی چہکار میں بھی اداسی گھلی ہے مجھے کیا ضرورت ہے کلیوں کے چہرے پہ مسکان کی چاندنی میں کھلاؤں ہتھیلی پہ آکاش کی آرزو کے ستارے سجاؤں مجھے کیا پڑی ہے بلاؤں بہاروں کے مطرب سکھاؤں انہیں ایک ...

مزید پڑھیے

تمہارے لفظ

اب بھی آیتوں کی طرح اترتے ہیں اور دل ان کی ترتیل کرتا رہتا ہے کتاب مکمل ہی نہیں ہوتی

مزید پڑھیے
صفحہ 809 سے 960