شاعری

تو پھر یہ دیکھا

تو پھر یہ دیکھا کہ روشنی کے حصار میں ایک دیو قامت شجر کھڑا ہے کہ جس نے شانوں پہ بے شمار شاخیں اٹھا رکھی ہیں کہ بے شمار شاخوں پہ ان گنت کونپلیں کھڑی ہیں جو اپنی آنکھوں کی نرمیوں سے نمو کا اعجاز دیکھتی ہیں اور اپنی زندہ سماعتوں میں لہو کی آواز سن رہی ہیں تو پھر یہ دیکھا نہ کوئی کونپل ...

مزید پڑھیے

قرض

اک عدن جل رہا تھا نگہباں خدا اس گھڑی ساتویں آسماں پر نہ تھا اور ازل سے ابد تک احاطہ کیے ایک افعی کی منحوس آواز تھی اور خدا میرے شام و سحر میں نہ تھا میرے گھر میں نہ تھا اور خدا جو دبے پاؤں کھڑکی سے پیچھے ہٹا جو مرے ساتھ سونی سڑک پر رکا یک بیک منفعل ہچکیوں میں بکھرنے لگا اک جلال ...

مزید پڑھیے

لا حاصل

جانتا ہوں کہ ہم تم بچھڑ جائیں گے جانتا ہوں کہ دونوں ملے بھی کہاں رات لیکن مرے آسماں میں نے دیکھا مری آرزو کا سمندر تجھے چھو رہا تھا

مزید پڑھیے

درشن

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند کیسی انوکھی بات رے تن کے گھاؤ تو بھر گئے داتا من کا گھاؤ نہیں بھر پاتا جی کا حال سمجھ نہیں آتا کیسی انوکھی بات رے انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند پیاس بجھے کب اک درشن میں تن سلگے بس ایک لگن میں من بولے رکھ لوں نینن میں کیسی انوکھی بات رے انوکھا ...

مزید پڑھیے

سورج تو سب کا دھن ہے

اپلے تھاپتے آخر تم شرماتی کیوں ہو مڑ مڑ کے کیا دیکھتی ہو لوگ تو اپنے برے کام کی سند بھی آسمانی کتاب سے لاتے ہیں لڑکی سورج تو سب کا دھن ہے جو جیسے چاہے استعمال کرے

مزید پڑھیے

کل کہیں ایسا نہ ہو

میرے لفظ اگر تمہیں سنائی نہیں دیتے تو مجھ پر ہنستے کیوں ہو اور مجھے پتھر کیوں مارتے ہو کل کہیں ایسا نہ ہو کہ سماعتیں بحال ہو جائیں اور یہ زخم تمہیں تکلیف پہنچایں

مزید پڑھیے

سورج کے جلتے وہار میں

سورج کے جلتے وہار میں بس گئی بسنتی رنگ بھری بدری کہ بدری برس گئی اک رت کی جلتی بہار میں کایا کی سرسوں جھلس گئی اور جھوم جھوم کے ناچ رہی دھرتی کہ بدری برس گئی یہی ناچ امر یہی کھیل امر کیا گئے دنوں کا پچھتاوا کیا نئی رتوں کا بہلاوا نینوں کی جوت جگائے رکھو کس روز بہار بسنت نہیں اس ...

مزید پڑھیے

آدھی رات کا سورج

کسی چوکھٹ پہ چوکیدار لاٹھی کھٹکھٹاتا ہے وہ کھڑکی کھل گئی اک ریلوے انجن تھکی ہاری بسیں کج بحث کتے الجھنیں محرومیاں لو پھر قطار اندر قطار آئیں وہ کھڑکی کھل گئی پھر موت در آتی چلی آئی تمہارے صحن میں کیلے کے پتے جانکنی میں سر پٹکتے ہیں سنا پھر بلیاں اس ٹین کی چھت پر ہراساں پھر رہی ...

مزید پڑھیے

گھوڑا

میں گھوڑے کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں وہ اولین شجر ہے وہ بانس کے جنگل کی طرح راتوں رات اگتا ہے اور ہواؤں کو سنسناتے ہوئے گزرنے کی اجازت دیتا ہے گھوڑے کو خدا نے افضالؔ احمد سید کی نظم کی طرح بنایا ہے خوب چوڑا سیاہ مٹی سے پھوٹتا ہوا سیاہ آسمان سے اترتا ہوا پرواز پر آمادہ خدا نے ...

مزید پڑھیے

حاسد

ایک دن چاندنی کے سحر میں ریت اپنا جنوں تحریر کرنے آؤں گا دوسرے سب خواب ساری چاہتیں سارے نشاں میں سمندر ہوں بہا جاؤں گا

مزید پڑھیے
صفحہ 808 سے 960