ذرا سوچو
فرض کرو کہ سارے جانور بات بھی کرتے ہم سے ان کے جو جی میں آ جاتا کہہ دیتے ایک دم سے دروازے پر کتا کہتا بھوکے ہیں دو دن کے کوئی دوا بھی دے دو دیکھو مکھی زخم پہ بھنکے باورچی خانے میں چیونٹی شکر مانگتی رہتی بس دو دانے بس دو دانے ہر پھیرے پر کہتی چڑیا اڑتے پھرتے کھڑکی پر آواز لگاتی بچوں ...