شاعری

شیطان کا فرمان

اٹھو مرے محبوب مریدوں کو جگا دو فن کار کو ابلیس کا پیغام سنا دو جس ملک میں یاروں کو میسر نہ ہو وائن اس ملک کا ہر خوشۂ انگور جلا دو گرماؤ ادیبوں کا لہو وہسکی و رم سے شاعر کوئی مل جائے تو ٹھرا ہی پلا دو لیڈر جو نظر آئے تو بولو یہ ادب سے تقریر میں تم گرمیٔ وہسکی سے جلا دو پیپر کے ...

مزید پڑھیے

جدید تحقیق

سب سے بڑے محقق کرتے تھے یہ تماشا قبروں سے کھینچتے تھے اردو ادب کا لاشہ سوداؔ کا ہو وہ غنچہ اکبرؔ کا یا ہو جمن دگی ہو یا کہ تگی تولہ ہو یا کہ ماشا گہری نظر سے اپنی ہر اک کو دیکھتے تھے اپنے قلم سے ان کو ہوتی نہ تھی نراشا ساری پرانی قبریں جب کھود لیں بڑوں نے زندوں پہ ہو رہی ہے اب مشق ...

مزید پڑھیے

پیام مسرت

بچپن کے ایک دوست مرے گھر پہ آئے تھے میرے لئے پیام مسرت وہ لائے تھے یعنی کہ ان کے بیٹے کی شادی میں جاؤں میں اور ساتھ ان کے مرغ مسلم اڑاؤں میں میں نے کہا کہ آپ تکلف نہ کیجئے مشغول ہوں میں آپ مجھے بخش دیجئے بولے برات آپ نہیں جائیں گے اگر سن لیجئے نہ جاؤں گا سمدھی کے میں بھی گھر یہ ...

مزید پڑھیے

فخر جاہلاں

اک روز میں نے اپنی مؤنث سے یہ کہا بیگم مشاعرے کو میں آیا ہوں لوٹ کر بولی کہ مال لوٹ کا جلدی سے دیجئے تاکہ اسے پکاؤں ابھی پیس کوٹ کر بیوی کی کور مغزی پہ بولا بگڑ کے میں اے احمق الذی تو نہ شاعر کو ہوٹ کر تو فخر جاہلاں ہے تجھے کیا بتاؤں میں داد سخن سبھی نے مجھے دی ہے چھوٹ کر بولی وہ ...

مزید پڑھیے

تقدس مآب

اسرارؔ مبتلا ہوئے اک دن عذاب میں یعنی گرفت زاہد عزت مآب میں تقویٰ و زہد فقر تصوف مواخذات کہتا تھا داستان مگر ایک باب میں خوف خدا کچھ ایسا بٹھایا کہ الاماں دن میں ذرا سکون نہ راحت تھی خواب میں وہ اختلاج قلب ہوا تھا کہ ایک دن حاضر ہوا حکیم مطب کی جناب میں دو چار بار نبضیں ...

مزید پڑھیے

لیڈر کی دعا

ابلیس مرے دل میں وہ زندہ تمنا دے جو غیروں کو اپنا لے اور اپنوں کو ٹرخا دے بھاشن کے لیے دم دے اور توند کو پھلوا دے پایا ہے جو اوروں نے وہ مجھ کو بھی دلوا دے پیدا دل ووٹر میں وہ شورش محشر کر جو جوش الیکشن میں ڈنکا مرا بجوا دے میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو بھی گھپلا دوں وہ شوق سیاست دے ...

مزید پڑھیے

اچھی نظم کی خواہش

اچھی نظم کی خواہش بالکل بارش جیسی ہوتی ہے گھن گھن بادل گرجے برسے دھوپ بھلے چمکیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل آنسو جیسی ہوتی ہے گرم گرم عارض پر بکھرے چاہے شب برفیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل بچپن جیسی ہوتی ہے چھوٹے چھوٹے برتن ہوں گڑیا ہو اور سہیلی ہو اچھی نظم کی خواہش بالکل ...

مزید پڑھیے

ذمہ داری

ماں بیٹے کے درمیان ایک منظوم مکالمہ بیٹا بس بہت پڑھ لیا کچھ بھول نہیں جاؤں گا ماں میں بس آج سے اسکول نہیں جاوں گا ماں میرے بیٹے مرے معصوم سے پیارے بچے روز اک تازہ بہانہ نہیں کرتے ایسے اچھا مجھ کو یہ بتاؤ ہے پریشانی کیا تم کو اچھی نہیں لگتی کوئی استانی کیا کون سی بات سے ...

مزید پڑھیے

مرا خط

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے میں انجانے پتے پر ایک خط لکھ کر سپرد ڈاک کرتی ہوں جو دل میں معاملات دل ہیں سب صد چاک کرتی ہوں میں لکھ دیتی ہوں ان کے نام بھی جن سے شکایت ہے بتا دیتی ہوں کس کس سے مجھے کتنی محبت ہے تعارف ان کا بھی جن سے بہت نقصان پہنچا ہے جنہیں پانے کو صحرا تک دل ویران پہنچا ...

مزید پڑھیے

غریب بچے کی دعا

اللہ میاں پانی برسا دو تپتی گرمی دور بھگا دو میں اک مزدورن کا بچہ بھولا بھالا بالکل سچا کتنا کم کم مانگ رہا ہوں اچھا موسم مانگ رہا ہوں اونچے بنگلے اچھے کھانے میرے گھر چاول کے دانے ایک گھڑا اور ایک چٹائی کچھ چمچے اور ایک کڑھائی سوکھے لب اور آنکھیں پانی رت بھیجو تم خوب سہانی ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 779 سے 960