شاعری

چاندنی

وقت آ گیا اب رات کا پھر تھم گئی چلتی ہوا خاموش ہے ساری فضا چاروں طرف اک نور سا برسا رہی ہے چاندنی دیکھو وہ بادل آ گئے اور چاند پر بھی چھا گئے اس نور کے آنچل میں اب اس قید اس بادل میں اب گھبرا رہی ہے چاندنی اے لو وہ بادل چھٹ گئے اور چاند پر سے ہٹ گئے ہر ہر در و دیوار پر دریا پہ اور ...

مزید پڑھیے

تیرا نام

نارس لیتا ہوں میں کیا تیرا نام صبح صبح یا شام تیرے آگے جوڑے ہاتھ موڑے پاؤں بستہ لب تو سنتا ہے میں جپتا ہوں جو دانے آٹھوں پہر ساتوں دن تیرے آگے بے وجود نارس لیتا ہوں میں کیا تیرا نام

مزید پڑھیے

ایک آدمی

راستے میں شام مل جائے گی تنہا تم اسے ہمراہ لے کر گھومنا سنسان دریا کے کنارے بیٹھ جانا جب تھکاوٹ پاؤں پکڑے بات کرنے کے لیے ٹیلے ملیں گے گنگنانے کی اگر خواہش ہوئی تو روک لینا سرسراتی سی ہوا کو نیند آ جائے تو سو جانا کہیں بھی رات ایسی ہی ملے گی گھر سے باہر

مزید پڑھیے

پسپائی

پانچ دس کا چھوٹا کمرہ دو دروازے ایک میں گندہ پردہ دوجے میں وہ بھی نہیں بند کھڑکی پیوند زدہ مچھر دانی ڈولتا پلنگ بیٹھو تو تحت الثریٰ ہل جائے ایک عورت عالم سپردگی میں پانچ دس کے نوٹ کھونٹی پہ ٹنگا اوورکوٹ لام سے بے نیل و مرام واپس پسپائی معرکہ آرائی جنگ سے ہاتا پائی سوچو تو سدر ...

مزید پڑھیے

اصول کے جزیرے

سرحدیں کتنی پرانی کرم خوردہ ہو چکی ہیں جسم کو اب کیا ضرورت رہ گئی ہے ایک ہی کمرے میں رہ کر وہ الگ جلتے جزیروں میں سلگنے کی یہ دیواریں جنہیں ہر رات ننگا ذہن اپنی کھردری آنکھوں سے زخمی کر رہا ہے ایک دن پھرے گا شاید تم بھی اب محسوس کرنے ہی لگے ہو

مزید پڑھیے

ابہام دیدہ

مخاطب آسماں ہے یا زمیں معلوم کر لینا کہ دونوں کے لیے تشبیب کے مصرعے الگ سے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آسماں بدظن زمیں ناراض ہو جائے قصیدے میں گریز ناروا کا موڑ آ جائے ترے سر پہ کوئی الزام عائد ہو کہ تو بھی عندلیب گلشن نا آفریدہ ہے سخن فہمی تری گنجلک بیاں ابہام دیدہ ہے یہ مشورہ اس لیے ...

مزید پڑھیے

دیمک

کرم خوردہ کاغذوں کے ڈھیر میں مدفون ہے چاٹتا ہے حرف حرف دائرے قوسین سن تاریخ اعداد و شمار نقطہ و زیر و زبر تشدید و مد حاصل بینائی و ذوق نظر باندھتا ہے وہم و تخمین و گماں کے کچھ حصار چومتا ہے کتبۂ لوح مزار چند نقطے اڑ گئے ہیں لفظ کچھ کاواک ہیں اس کی نظروں میں خزینہ علم کا خار و ...

مزید پڑھیے

موت کی جستجو

چہرے روحوں کی بے مائیگی ذہن کی تیرگی کے سیہ آئنے سرد آنکھوں کے تاریک روزن میں دبکا ہوا اک خلا ایک سناٹا ہونٹوں کے بستہ مکاں میں ہے سویا ہوا روح کو جہد تحصیل زر کھا گئی ذہن کی روشنی ناامیدی کی ظلمت میں دھندلا گئی آنکھیں ناکامیوں کے کھنڈر میں مکاں کے تصور سے عاری ہوئیں ہونٹ کشکول ...

مزید پڑھیے

پتھروں کا مغنی

مطرب خوشنوا زندگی کے حسین گیت گاتا رہا اس کی آواز پر انجمن جھوم اٹھی اس نے جب زخم دل کو زباں بخش دی سننے والوں نے بے ساختہ آہ کی عشق کے ساز پر جب ہوا زخمہ زن شور تحسیں میں خود اس کی آواز دب سی گئی مطرب خوشنوا پھر بھی تنہا رہا تشنگئ مشام اس کو باد صبا کی طرح گل بہ گل لے گئی کاسۂ ...

مزید پڑھیے

توانا خوب صورت جسم

اعضا کا تناسب رگوں میں دوڑتے زندہ جواں سرشار خوں کی گنگناہٹ ہمیں دیتے ہیں دعوت عشق کی لیکن ہماری چشم آہن پوش پیراہن شناسا ہے لباسوں کی محبت وضع پیراہن کو سب کچھ مان کر نا بینا آنکھیں عشق کرتی ہیں ہماری زندگی تہذیب پیراہن ہے ظاہر کی پرستش ہے ہمارے سارے آداب نظارا فرض کر لیتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 75 سے 960