شاعری

لذت غم

گو گلستان جہاں پر میری نظریں کم پڑیں اور پڑیں بھی تو خدا شاہد بہ چشم نم پڑیں کر رہی تھی فصل گل جب راز قدرت آشکار جب اگلتی تھی زمیں گنجینہ ہائے پر بہار خون کے آنسو بھرے تھے دیدۂ نمناک میں مختلف شکلیں تھیں غم کی چہرۂ غم ناک میں فطرتاً دل میں نہ تھا میرے کبھی ارمان عیش بند کر لیتا ...

مزید پڑھیے

آتش خاموش

سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوش اے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوش یوں تیرے دل صاف میں اشراق محبت جس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوش میں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے مارا کر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموش وہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سے اک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوش جبریل مرے ...

مزید پڑھیے

میرؔ

شاہد بزم سخن ناظورۂ معنی طراز اے خدائے ریختہ پیغمبر سوز و گداز یوسف ملک معانی پیر کنعان سخن ہے تری ہر بیت اہل درد کو بیت الحزن اے شہید جلوۂ معنی فقیر بے نیاز اس طرح کس نے کہی ہے داستان سوز و ساز ہے ادب اردو کا نازاں جس پہ وہ ہے تیری ذات سر زمین شعر پر اے چشمۂ آب حیات تفتہ دل آشفتہ ...

مزید پڑھیے

بچپنے کی یاد

اے بچپنے کی دنیا تو یاد آ رہی ہے دل سے مری صدائے فریاد آ رہی ہے راحت سنا رہی تھی افسانہ سلطنت کا تھی ماں کی گود مجھ کو کاشانہ سلطنت کا وہ گھر کہ دور جس سے تھی گردش زمانہ آزادیوں کا میری آباد آشیانہ پھرتی ہے اب نظر میں تصویر اس مکاں کی عرش بریں سے بہتر تھی سرزمیں جہاں کی نازک مزاج بن ...

مزید پڑھیے

یورپ کی زندگی

دن بھر ہے چرچا کام کا شب اور شراب جاں فزا دن بھر ہیں ساری سختیاں شب اور حوران جناں ایک ایک سانچے میں ڈھلی ایک ایک پتلی قہر کی غنچہ دہن آفت ادا شوخی غضب غمزہ بلا ظاہر میں سفاکی بھری باطن میں اک جذب خفی تیور سے روکھا پن عیاں انداز میں مستی نہاں پالو کبھی وحشی ہرن خود صید پر ناوک ...

مزید پڑھیے

وقت

ہے سال نو کی آمد ہر شخص کی خوشی ہے کیا رنگ لائے گا یہ اس کی نہیں خبر کچھ میں جانتا ہوں ظالم تیری یہ دل لگی ہے دل میں نہیں کسی کے جو موت کا خطر کچھ اے وقت بے مروت اے وقت بے مروت عالم کا لحظہ لحظہ میں حال کیا سے کیا ہے مفلس ابھی تھا کوئی مسند نشیں ابھی ہے جیتا کوئی ابھی تھا اب دفن ہو ...

مزید پڑھیے

بیکسی عشق

ایک دن اس نے جو مجھ سے پوچھا کیوں مرے ملنے کا ارمان ہوا اس کو دیکھا تو مگر آہوں کا موجزن سینے میں طوفان ہوا ہوئی چہرے سے نمایاں وحشت دونوں ہاتھوں سے لیا دل کو تھام یاس ارمان تمنا حسرت دل سے آنکھوں میں اتر آئے تمام کچھ جواب اس کو جو دینا چاہا لب ملے پر نہ صدا نکلی آہ ایک محشر تھا ...

مزید پڑھیے

کوئل

اے چیت میں آنے والی کوئل مطلق کھلتا نہیں ترا راز طائر تجھ کو کہے مرا دل یا جسم سے خالی کوئی آواز کس کے غم میں ہے تیری کو کو بتلا ہے کون تیرا دلبر پھرتی جو ڈال ڈال ہے تو کس کو تو ڈھونڈھتی ہے آخر جنگل جنگل یہ تیری پرواز آخر کس کی تلاش میں ہے تجھ کو ہے سوز سے مگر ساز کیسی پر درد ہے تری ...

مزید پڑھیے

انسان

انسان اور اطاعت ماحول افترا آیا ہے اپنی آپ یہ دنیا لیے ہوئے ہے دیکھنے میں ذرہ پہ صد مہر در بغل وحدت ہے اس کی کثرت اشیا لیے ہوئے ظاہر میں ایک پھول پہ صد گلستاں یہ جیب بالفعل قطرہ بالقوۃ دریا لیے ہوئے معماریٔ جہان نو اس کی ہے زندگی موت اس کی ہے حیات کا چشمہ لیے ہوئے کس کی مجال ہے کہ ...

مزید پڑھیے

عندلیب

اے عندلیب زیب چمن زینت چمن ہمدم قلق نصیبوں کی الفت کے ماروں کی شیریں تری نوا ہے اگرچہ ہے پر خروش دل کش تری صدا ہے اگرچہ ہے دل خراش سازوں میں ہے وہ بات کہاں جو کہ تجھ میں ہے الفت کہاں ہے ان کو کسی سے کہاں ہے لاگ ہے ہے کسی کے سوز سے ان کو کہاں ہے ساز بے شبہ ان میں لحن ہے اک خاص طور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 760 سے 960