لذت غم
گو گلستان جہاں پر میری نظریں کم پڑیں اور پڑیں بھی تو خدا شاہد بہ چشم نم پڑیں کر رہی تھی فصل گل جب راز قدرت آشکار جب اگلتی تھی زمیں گنجینہ ہائے پر بہار خون کے آنسو بھرے تھے دیدۂ نمناک میں مختلف شکلیں تھیں غم کی چہرۂ غم ناک میں فطرتاً دل میں نہ تھا میرے کبھی ارمان عیش بند کر لیتا ...