شاعری

دسمبر کی آواز

دسمبر چیختا ہے جب رگوں میں لطف سے عاری پریشاں محفلوں میں مجھ کو وہ بدنام دشمن یاد آتا ہے جو میرے خون کا پیاسا گلی سے جب گزرتا تھا مرے اعصاب میں اک سنسنی سی دوڑ جاتی تھی میں اس لمحے کی برہم آگ میں جلتا ہوا محسوس کرتا تھا میں زندہ ہوں مسلسل ہوں میں زندہ ہوں مسلسل ہوں وہ دشمن مر ...

مزید پڑھیے

شناخت

شناخت اس کے نام سے تھی جسم کی بہار سے شناخت آفتاب سے تھی زلف آبشار سے شناخت پیرہن سے تھی غزال نور بار سے شناخت اس کے شبنمی فشار آتشیں سے تھی زمین‌‌ دوز آسماں صفت خمار سے کھلی ہوئی تھی دور دور تک تبسموں کی سرخ دھوپ تیز روشنی تمام شفقتوں کی نرم چاندنی ملائک و نجوم آج سارے بے مراد ...

مزید پڑھیے

ایک عورت

وہ موج اک مقام سے افق کی سمت پھیلتی چلی گئی وہ ایک دائرے سے سیکڑوں حسین دائروں میں دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ہر ایک دائرے میں آفتاب تھا ہر ایک دائرے میں سرخ زہر تھا ہر ایک دائرہ حیات‌‌ جاوداں ہر ایک دائرے میں مرگ شادماں وہ ایک تھی ہزار صورتوں میں میرے سامنے طلوع جب ہوئی تو میرا ...

مزید پڑھیے

سمندر پر بارش

یہاں پہ کل تک جو گاؤں تھا اس کے سب مکیں اب اداس قصبوں غلیظ شہروں میں بس چکے ہیں زمیں کے سینے سے جھاڑیوں خشک اور بیکار زرد پودوں کی فصل اگتی ہے ہر برس سرخ آگ کا کارواں اترتا ہے صبح دم دشت کے کناروں پہ پھیل جاتا ہے گرد آفاق میں شب سرد کی حدوں تک یہاں مگر ایک طائر پر شکستہ شاید مقیم ...

مزید پڑھیے

ترسیل

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اچھا یا برا کچھ بھی نہیں ہے تقریب ولادت ہو یا ہنگام دم مرگ اک لمحے کو تصویر میں ڈھلنا ہے وہ ڈھل جاتا ہے آخر وہ نغمہ ہو یا گریہ یا انداز تکلم سب عکس ہیں اسرار فسوں کار کے شاید یکساں ہیں مکافات کی یورش میں سبھی رنگ سرگوشیاں کرتے ہیں گزر جاتے ہیں آنکھوں کے جہاں ...

مزید پڑھیے

تحلیل

میں رات اور دن کی مسافت میں رنگوں کی تفسیر میں اپنے سارے عزیزوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے قتل مسلسل میں مصروف ہوں پھر میں کیوں سوچتا ہوں سر جام، ہر شب کہ دیدہ وری کی متاع فروزاں سے سرشار ہوتا تو ہر خفتہ سربستہ تحریر سے میں گلے مل کے روتا صداؤں کی سرگوشیوں میں اترتا عجب حادثہ ہے کہ کچھ ...

مزید پڑھیے

آسمان میں آگ

پیڑوں کے پتے جلتی دوپہروں کو آنے جانے والوں کو سایہ دیتے ہیں اپنے ہونے کا اعلان نہیں کرتے سائے کا اعلان نہیں کرتے میں گھر سے بچھڑا تھا جب تو اکثر برسوں جلتی دھوپ میں ان کی شفقت کے سائے میں سویا تھا کچھ دن سے دور دور تک آسمان میں آگ دور دور تک پیاسے جلتے بجھتے لوگ بادل بارش سبزہ ...

مزید پڑھیے

روزن دیوار شب

گرمیٔ خورشید کا ایک نقش مضطرب روزن دیوار شب خوش ادا پر کار ہے نور سے سرشار ہے سیل‌ موج شہر میں وہ اترنے کو ہے اب خیر مقدم کے لیے جاگتے ہیں چشم و لب میری خاطر شہر میں وہ فروزاں جسم و جاں وہ درخشاں پیرہن وہ سنہرا بانکپن شعلۂ تنویر ہے خون میں تحلیل ہے صبح کی تصویر ہے اس کا روئے ...

مزید پڑھیے

دور کا سفر

میں نان سوختہ کا ذائقہ اتارتا ہوں روز و شب زبان پر کہ اس کی ہمدمی میں دوستی میں عمر کے نشیب میں اگر میں ڈھل سکوں تو فصل آفتاب کا وہ برگ زرد بن سکوں جو دائرے کی انتہا پہ صرف موسموں کے خواب دیکھتا ہوں صبح و شام سوچتا ہوں آرزو فریب کار شاہدہ کہاں ملی تھی اور کون سے حسین موڑ تک چلے گی ...

مزید پڑھیے

اتفاق

تمام لوگ ابتدا میں ایک دوسرے کے سامنے ہجوم میں دکھائی دینے والے کچھ نشاں محض اجنبی پھر یکا یک معجزہ طلوع کا اور ایک روئے آفتاب بادلوں کے پار سے نکل کے رو بہ رو خرام نور کو بہ کو پرانا شہر وقت شام پھیلتا امڈتا اجنبی ہجوم ہاؤ ہو کے درمیان معجزہ ہوا اور ایک مضطرب حسین روئے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 741 سے 960