اکیلی
اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تمہارے لئے غیر ہوں پھر بھی ٹھہرو ذرا سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں وہ گھروندا نہیں جس کے سائے تلے بوریوں کے ترنم کو سنتی رہی پھول چنتی رہی گیت بنتی رہی میری نظروں کے سہمے ہوئے ...