شاعری

اکیلی

اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تمہارے لئے غیر ہوں پھر بھی ٹھہرو ذرا سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں وہ گھروندا نہیں جس کے سائے تلے بوریوں کے ترنم کو سنتی رہی پھول چنتی رہی گیت بنتی رہی میری نظروں کے سہمے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ریڈیو

ہمارے منے کو چاہ تھی ریڈیو خریدیں کہ اب ہمارے یہاں فراغت کی روشنی تھی میں اپنی دیرینہ تنگ دستی کی داستاں اس کو کیا سناتا اٹھا کے لے آیا تنگ و تاریک کوٹھری سے قلیل تنخواہ کے چچوڑے ہوئے نوالے اور ان میں میری نحیف بیوی نے اپنی دو چار باقی ماندہ شکست آمیز آرزوؤں کا خون ڈالا نہ جانے ...

مزید پڑھیے

دوست

اس سے جب کہتا ہوں میں میرا ایک ننھا منا دوست ہے پوچھتا ہے کون ہے سامنے کی دانت اس کے آٹھ سب شفاف موتی مشعلیں اس کی شریر پر آنکھوں میں روشن لب پہ اس کے نت نئے تازہ حسیں الفاظ شاعر اولیں شاعر طلسماتی زباں کا اولیں شاعر وہ شیروں ہاتھیوں گینڈوں سنہری بطخوں کی بندروں کی حمد گاتا ...

مزید پڑھیے

کاغذ کی ناؤ

رات کو سونے سے پہلے مجھ سے ننھا کہہ رہا تھا چاند لاکھوں میل کیوں کر دور ہے کیوں چمکتے ہیں ستارے دو غبارے کالی بلی کیا ہوئی میرے ہاتھی کو پلاؤ گرم پانی وہ کہانی مجھ کو نیند آنے لگی نصف شب کو آتے جاتے بادلوں کے درمیاں کچھ حروف ناتواں بوندیوں کے روپ میں کاغذ کے اک پرزے پہ میرے ...

مزید پڑھیے

تحریر

میں نے فراز جسم پر محراب لکھ دیا جب رات ڈھل گئی میں نے فصیل شہر پر مہتاب لکھ دیا میں رات بھر برہنہ جسم پر لکھا گیا میں نے سنہرے جسم میں بوئی تھی داستاں میں نے سیاہ رات کو سونپا تھا ماہتاب وہ رات میرے دل پہ اضطراب لکھ گئی وہ رات دور تک سنہری دھوپ سرخ پھول سیل آفتاب لکھ گئی

مزید پڑھیے

صبا کے ہاتھ پیلے ہو گئے

صبا کے ہاتھ پیلے ہو گئے میں ساعت سرشار میں لاکھوں دعائیں خوبصورت آرزوئیں پیش کرتا ہوں صبا ممنون ہے لیکن زباں ہے کچھ نہیں کہتی صبا اب روز و شب دیوار و در تن پر سجاتی ہے اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے لمس فرش مرمریں سے پاؤں کی تزئین کرتی ہے وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں چمکتے ...

مزید پڑھیے

پرندوں بھرا آسمان

لوگ کہتے ہیں آواز کا ایک چہرہ بھی ہوتا ہے انداز بھی جسم بھی سرخ سورج کا سونا درختوں کے اس پار مہتاب کی سیم گوں موج عریاں سمندر کی آویزشوں کا پر اسرار نغمہ محبت کی لذت کی گرمی کبھی شبنمی ننھی منی سی لوری کہانی سیہ کار شب میں کوئی خون آلودہ باب عدالت مکافات کا سلسلہ دل کی ویرانیوں ...

مزید پڑھیے

دیواریں

کہتے ہیں سب لوگ ہوتے ہیں دیواروں کے کان کمروں کی تنہائی میں سرگوشی میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں چھپ چھپ کر جب لوگ دیواریں سب سن لیتی ہیں سن لیتے ہیں لوگ دیواروں کی آنکھ بھی ہوتی ہے کتنا اچھا ہوتا آنکھ ہے کان سے بہتر شاید کمرے کا ہو یا پھر چلتی راہ گزر کا نظارہ تو نظارہ ہے منظر آخر ...

مزید پڑھیے

بچوں کا جلوس

غبارے ستارے گلابی شرابی کھلے پرچموں کے شرارے اڑاتے ہزاروں کی تعداد میں وہ گھروں سے اسکولوں سے آئے دہکتے ہوئے گال اڑتے ہوئے بال جسموں کے موتی وہ شبنم تھے لیکن بدلتے گئے گرم لاوے میں پیہم وہ بہتے گئے موج در موج ہر رہ گزر پر فلک بوس نعروں سے اپنے وطن کے نئے یا پرانے چلے وہ بڑھے ...

مزید پڑھیے

اکیلی

اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوں پھر بھی ٹھہرو ذرا سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں میری امی نہیں میرے ابا نہیں میری آپا نہیں میرے ننھے سے معصوم بھیا نہیں میری عصمت کی مغرور کرنیں نہیں وہ گھروندا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 740 سے 960