شاعری

الاؤ

چراغ امروز بجھ رہا ہے دھوئیں کی موجیں ابھر رہی ہیں شب سیہ منتظر کھڑی ہے اندھیرا چپ چاپ چھا رہا ہے ابھی ہمارے گھروں کے اندر سلگ اٹھیں گے الاؤ اپنے ہی جسم ایندھن کا کام دیں گے گھروں سے باہر شجر پہ الو کی سرد چیخیں ہنسے گی ہم پر کہ نغمگی کوئی شے نہیں ہے کہ زندگی کوئی شے نہیں ...

مزید پڑھیے

موسم

اسیر آرزو ہجوم بے اماں شراب روز و شب کی آتش رواں میں برہمی کے قہقہوں کی بازگشت اب ہمارے درمیاں عجیب خواہشوں کے بیج بو رہی ہے میرے واسطے جو اجنبی ہے اس کو پاس سے گزرتا دیکھ لوں تو اس کی روشنی کو نوچ لوں جو اس کے خون میں اتر رہی ہے اس کے ایک پل کو دوسرے سے جوڑتی ہے تیرتی ہے سانس ...

مزید پڑھیے

سالگرہ

دم عمر رواں کا دائرہ رکتا ہے اک لمحے پہ شاید ہر برس وہ میری پیدائش کی ساعت ہے تمہاری یا ہمارے ننھے بچوں کی ہمارے رشتۂ انداراج میں یا شعلۂ گل سے منور غیر رسمی اجنبی وابستگی کی جو رگ و پے میں مسلسل ہو گئی میں روکتا ہوں بے وفا لمحے کو پیہم سینچتا ہوں خون سے اس کو دریدہ انگلیوں سے کاٹ ...

مزید پڑھیے

سر راہ گزر ایک منظر

قفس کا در کھلا اک نیم جاں کم سن پرندہ چند خستہ زائچوں پر رقص کے انداز میں آگے بڑھا، پھر چونچ سے اپنا پسندیدہ مصور زائچہ اس نے اٹھایا اور اپنے ہی ہدایت کار کے آگے ادب سے رکھ دیا جھک کر ہدایت کار گرچہ نور سے تھا بدگماں محروم نا خواندہ سر سیل رواں اک برگ بے مایہ نوشت بخت کے اسرار سے ...

مزید پڑھیے

ایک پراسرار صدا

اس کے ہنسنے اور رونے کی صدا ہو گئی تھی کچھ دنوں سے ایک سی اب وہ اکثر دن میں سوتا اور شب بھر جاگتا گھومتا تھا شہر کی سڑکوں پہ تنہا صبح تک اک صدا سونی فضاؤں میں لگاتا گونج سنتا پھر لگاتا چلتا جاتا بے تکاں لوگ اب سوتے تھے راتوں کو نہ شاید جاگتے اک عجب عالم تھا سنتے تھے جونہی آواز اس کی ...

مزید پڑھیے

وصال

تیری قربت کی لذت شیریں جسم و جاں میں اترتی جاتی ہے چاند اوپر ہے نیلے امبر میں جھیل نیچے ہے اور ہم دونوں آ مرے پاس آ یہاں شب بھر اپنے جسموں کی وادیٔ نو میں سبز پیڑوں کھنکتے جھرنوں کی نغمگی لطیف کو ڈھونڈیں اپنی روحیں کثافت غم سے تیر اٹھیں گی تازہ زندہ دو کنول کے حسین پھولوں کے روپ ...

مزید پڑھیے

شاید

کچھ لوگ جو میرے دل کو اچھے لگتے تھے عمروں کے ریلے میں آئے اور جا بھی چکے کچھ دھندوں میں مصروف ہوئے کچھ چوہا دوڑ میں جیتے گئے کچھ ہار گئے کچھ قتل ہوئے کچھ بڑھتی بھیڑ میں اپنے آپ سے دور ہوئے کچھ ٹوٹ گئے کچھ ڈوب گئے مجھ پر یہ خوف اب چھایا ہے میں کس سے ملنے جاؤں گا میں کس کو پاس بلاؤں ...

مزید پڑھیے

لو گرد اور کتابیں

سلگتے دن ہیں طویل تنہائیاں مرے ساتھ لیٹے لیٹے فضا سے آنکھیں لڑا رہی ہیں مرے دریچے کے پاس سنسان رہ گزر ہے ابھی ابھی ایک ریلا آیا تھا گرد کا جو لپیٹ کر لے گیا ہے تنکوں کو ساتھ اپنے مری کتابوں میں کچھ نہیں ہے حروف بے روح بد مزہ ہیں حکایتیں اپنے خشک ہونٹوں کو چاٹتی ہیں تمام اشعار ...

مزید پڑھیے

کھنڈر اور پھول

مکاں جل چکا ہے کھنڈر ہے سیاہی ہے بجھتی ہوئی راکھ کی سسکیاں ہیں مری آنکھ پر نم ہے چپ چاپ گم سم کھڑا ہوں یہاں پر مرے آنسوؤں میں تصاویر ہیں ماضی و حال کی وقت کی منزلوں کی مرے ذہن میں داستاں ہے زمانے کے بننے بگڑنے کی تعمیر و تخریب کی دھڑکنوں کی مرے کان میں گونجتی ہیں وہ نرم اور شیریں ...

مزید پڑھیے

گریۂ سگاں

جب کتے رات کو روتے ہیں تو اکثر لوگ سمجھتے ہیں کچھ ایسا ہونے والا ہے جو ہم نے اب تک سوچا تھا نہ ہی سمجھا تھا جو ہونا تھا وہ کب کا لیکن ہو بھی چکا یہ شہر جلا اس شہر میں روشن ہنستے بستے گھر تھے کئی سب راکھ ہوئے اور ان کے مکیں کچھ قتل ہوئے کچھ جان بچا کر بھاگ گئے جو با عصمت تھیں رسوائی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 742 سے 960