دیدۂ تر
تم مرے کوئی نہیں اور یہ ننھی سی جاں کون ہے؟ کوئی نہیں میں بھی تم دونوں کو شاید اجنبی لگتا ہوں شاید کچھ نہیں عین ممکن ہے کہ روز حشر کے امکان سے ہی قبل ہم اپنے اپنے راستوں پر روز و شب چلتے ہوئے ریگ نا معلوم کے طوفان میں ایسے بچھڑیں پھر کبھی نہ مل سکیں یہ جو لمحہ بخت میں لکھا ہے ہم سب ...