شاعری

دیدۂ تر

تم مرے کوئی نہیں اور یہ ننھی سی جاں کون ہے؟ کوئی نہیں میں بھی تم دونوں کو شاید اجنبی لگتا ہوں شاید کچھ نہیں عین ممکن ہے کہ روز حشر کے امکان سے ہی قبل ہم اپنے اپنے راستوں پر روز و شب چلتے ہوئے ریگ نا معلوم کے طوفان میں ایسے بچھڑیں پھر کبھی نہ مل سکیں یہ جو لمحہ بخت میں لکھا ہے ہم سب ...

مزید پڑھیے

زرد لڑکی کا چہرہ

منجمد خون جب سرخ سے کل سیہ ہو گیا خاک پا واقعہ ہو گیا زرد لڑکی کا چہرہ فرشتوں نے دیکھا تھا رنگوں کی ترتیب میں جانے پہچانے چہروں سے میری ملاقات جب اجنبی سی لگی آئنہ دیکھنے کے لئے میں اٹھا آئنہ ہو گیا تیرگی سے گزرتی ہوئی روشنی برگ اسرار تھی آنکھ کے سامنے روشنی خون تھی خون پہلے گرا ...

مزید پڑھیے

خرگوش کا غم

حریف کون تھا غلیظ بد نما سا جانور وہ بے خبر جو رینگتا ہوا چلا جو رینگتا چلا گیا نہ جانے کس جہان سے تمہاری رہ میں آ گیا اصول بن کے زندگی کے آسماں پہ چھا گیا تمہیں یہ غم ستا رہا ہے آج بھی غلط گھڑی میں نیند تم کو آ گئی ستم عجیب ڈھا گئی مذاق ہی مذاق میں زمانے بھر کے سامنے تمہارا سر جھکا ...

مزید پڑھیے

میں، ایک اور میں

مجھ سے اچھا نہیں کچھ برا بھی نہیں ٹھیک مجھ سا بھی شاید نہیں مجھ کو محسوس ہوتا ہے کچھ مختلف بھی نہیں وہ جو اک اجنبی آج آیا ہے اس شہر میں عین ممکن ہے پیدا یہیں وہ ہوا ہو جواں ہو گیا تو کسی دوسرے دیس میں جا بسا ناروا موسموں کے تھپیڑوں کی یلغار میں کچھ فسردہ و مغموم بکھرا ہوا لوٹ آیا ...

مزید پڑھیے

بزدل

دیار برگ رعنا سے گزرتا ہوں تو مجھ کو خوف آتا ہے دم لمس پریشاں سے صدائے دیدۂ تر سے میں اس کے رنگ کو خوشبو کو اس کی نغمگی کو حادثہ مجروح و داماندہ نہ کر ڈالو خمار آرزو کی انتہا پر میں قلم کرتا ہوں اپنی انگلیوں کو پتلیوں کی بستیوں میں جگمگاتے سب ستاروں کو بجھاتا ہوں میں تعظیم ادائے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ابھی غیر دلچسپ ہو جائیں گے ہم ابھی تم کہو گے کہ بیکار ہے گفتگو کا بہانہ ابھی میں کہوں گا کہ بیکار ہے کاروبار زمانہ ابھی تم زباں پر سلگتی ہوئی ریت کا ذائقہ چند لمحوں میں محسوس کرنے لگو گے ابھی میں زباں پر کوئی خوب صورت فرشتہ صفت نام تنہائیوں میں نہیں لا سکوں گا ابھی ذہن بیمار ہو ...

مزید پڑھیے

ڈرگ اسٹور

اگر میں جسم ہوں تو سر سے پاؤں تک میں جسم ہوں اگر میں روح ہوں تو پھر تمام تر میں روح ہوں خدا سے میرا سلسلہ وہی ہے جو صبا سے ہے اگر میں سبز پیڑ ہوں تو روح اور جسم کی وہ کون سی حدیں ہیں فاصلوں میں جو بدل گئیں زمین میری کون ہے چمکتا نیلگوں حسین آسمان کون ہے جو برگ و گل میں دھیرے دھیرے جذب ...

مزید پڑھیے

شہید

مشتہر موت کی آرزو نے اسے مضطرب کر دیا اس قدر ایک دن وہ صلیبوں کے اعداد پر روز و شب غور کرنے لگا امتحاں کے لیے دشت کو چل دیا اپنے حصے کی جب منتخب کر چکا اس نے تاریخ کے زرد اور ایک پر نام اپنا خوشی سے رقم کر دیا ایک پر اس کا سر دوسری پر جگر تیری پر لٹکتا ہوا اس کا جذبوں سے معمور دل اس ...

مزید پڑھیے

دوسرا جنم

اداسی گھنی اور گہری اداسی کا سایہ شگوفوں کی سرگوشیاں چند چہروں کے خاکے نگاہوں کے موہوم سے دائروں میں کوئی اجنبی بے زباں روشنی یہ نہ فردا نہ موجود یہ منقلب ہو رہا ہے جو لمحہ اگر یہ عمل ہے تو صرف عمل ہے لب جوئے مے خامشی اور صید فغاں کوئی حرف تکلم کہیں رہ گزر پر مرے چشم و لب اور آواز ...

مزید پڑھیے

تخلیق

سر سبزی مستی شادابی جھونکوں کا مدھم سنگیت ہرے بھرے کھیتوں میں ننھے منے پودوں کی سرسر مٹی کے زرخیز بدن کی سوندھی سوندھی سی خوشبو رو پہلی چمکیلی دھوپ کی پیاری پیاری سی لذت پیڑوں کے ٹھنڈے سایوں میں شفقت کی ہلکی سی آنچ پگڈنڈی کے موڑ پہ لہراتے آنچل کی رنگینی جسموں میں قوت کی موجیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 739 سے 960