اس نے کہا!
سائے بڑھنے لگے اور جیسے کہیں رات ہوئی دیر تک بیٹھے رہے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پھر دل زار نے چپکے سے انہیں چوم لیا ہونٹ تھرائے کہ کس طرح کی یہ بات ہوئی پیاری آنکھوں نے کہا ہم تو بہت ہیں مخمور کوئی ناشاد رہے ہم تو ابھی ہیں مسرور ذہن شاعر بھی تخیل میں ذرا جھوم لیا بات اتنی ہی ہوئی ...