شاعری

اس نے کہا!

سائے بڑھنے لگے اور جیسے کہیں رات ہوئی دیر تک بیٹھے رہے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پھر دل زار نے چپکے سے انہیں چوم لیا ہونٹ تھرائے کہ کس طرح کی یہ بات ہوئی پیاری آنکھوں نے کہا ہم تو بہت ہیں مخمور کوئی ناشاد رہے ہم تو ابھی ہیں مسرور ذہن شاعر بھی تخیل میں ذرا جھوم لیا بات اتنی ہی ہوئی ...

مزید پڑھیے

ریت اور درد

مدتیں گزریں مرے دل کو ہوئے ویرانہ آندھیاں بھی نہیں آتیں کہ اڑے ریت مٹے نقش سراب اور اک درد کا چشمہ مندمل زخموں سے پھوٹے نئی خنکی لے کر پیاس جاگ اٹھے سکوت دل مضطر ٹوٹے تاکہ میں دیکھ سکوں اپنی بے خواب سی آنکھوں سے وہ منظر اک دن ریت کے تودے فضاؤں میں اڑے جاتے ہیں اور خوش ہو کے ...

مزید پڑھیے

دیمک

خون کا ہر اک قطرہ جیسے دیمک بن کر دوڑے ناکامی کے زہر کو چاٹے درد میں گھلتا جائے چھلنی جسم سے رستے لیکن ارمانوں کے رنگ جن کا روپ میں آنا مشکل اور جب بھی الفاظ میں ڈھل کر کاغذ پر بہہ نکلے خاکے تصویروں کے بنائے آنکھیں تارے ہاتھ شعاعیں دل ایک صدف ہے جس میں کتنے سچے موتی بھرے ہوئے ...

مزید پڑھیے

نئے سمے کی کوئل

پھیل رہی ہے چاروں جانب نئے سمے کی سندر خوشبو آنے والے کل کی قسمت نہ میں جانوں نہ جانے تو سبزہ رنگت تتلی جگنو جانے کب سے چمک رہے ہیں پیڑ کی ہر اک شاخ پہ آنسو اور اس پیڑ کی اک ڈالی پر کوئل کرتی جائے کو کو کوئل کرتی جائے کو کو دیکھتی جائے یونہی ہر سو وقت کو جاتے دیکھ رہی ہے اور یہ ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ

آج اس شب کے سناٹے میں نیند نے آنکھیں پھیری ہیں شہر تھکا ہارا خاموشی کی باہوں میں سوتا ہے یہاں وہاں خوابوں کے قطرے شبنم بن کر گرتے ہیں کبھی کبھی کتوں کی آوازیں گلیوں سے اٹھتی ہیں سڑکوں پر دن کی رونق کے بھوت پریشاں پھرتے ہیں زخموں کی مانند حسیں جسموں پہ برستے ہیں سکے شیشوں کے ...

مزید پڑھیے

رو میں ہے رخش عمر

رہ گزر پر شور و غل کا سیل ہے بہہ رہا ہے خشک تنکے کی طرح یہ جہان رنگ و بو گھومتے پہیوں دھڑکتی گاڑیوں کی ہچکیاں داستاں در داستاں الجھی ہوئی ہیں چار سو درد سے سہمے ہوئے خوابوں کے لاکھوں قافلے گامزن ہیں سوئے حسرت حوصلے تھامے ہوئے میں بھی ان میں تم بھی ان میں ساری دنیا ان میں ہے خامشی ...

مزید پڑھیے

سرد، تاریک رات

اس قدر تیرہ و سرد ہرگز نہ تھا دل کا موسم کبھی ایک پل میں خدا جانے کیا ہو گیا چاند کی وادیوں میں اتر آئی شب! میں وہ تنہا سبک پا مسافر تھا تکمیل کی جستجو کھینچ لائی تھی اک روز جس کو یہاں آرزو تھی مجھے میں زمیں کے لیے میری طرار پرکار چشم نہاں فاصلوں سرحدوں وقت کے سب حصاروں کے اس پار ...

مزید پڑھیے

مجھے اک شعر کہنا ہے

اداسی کے حسیں لمحوں کہاں ہو تم کہ میں کب سے تمہاری راہ میں خوابوں کے نذرانے لئے بیٹھا حسیں یادوں کی جھولی میں کہیں گم ہوں ارے لمحو مجھے اس خواب سے بیدار کرنے کے لئے آؤ میری سوچوں کے خاکوں میں ارے لمحوں کوئی اک رنگ بھر جاؤ مجھے اک شعر کہنا ہے

مزید پڑھیے

ماں

وہ کون ہے جو اداس راتوں کی چاندنی ہیں کئی دعائیں لبوں پہ لے کر ملول ہو کر بھلا کے ساری تھکان دن کی یہ سوچتی ہے کہ میں نہ جانے ہزار میلوں پرے جو بیٹھا ہوں کس طرح ہوں وہ کون ہے جو اداس راتوں کے رت جگے میں دعاؤں کی مشعلیں جلانے کھڑی ہوئی ہے دعائیں جس کی مرے لئے ہیں میں ان دعاؤں کے زیر ...

مزید پڑھیے

سندیسہ

اسے کہنا یہاں سب کچھ تمہارے بن ادھورا ہے گئے لمحوں کی یادیں ہیں عذاب زندگانی ہے فراق ناگہانی ہے اسے کہنا کہ لوٹ آئے

مزید پڑھیے
صفحہ 738 سے 960