شاعری

میں نفی میں

نہیں میں نہیں ہوں کسی دوسرے نے مجھے ''میں'' کہا ہے تو میں ہو گیا ہوں نفس کھنچتا ہوں مگر زندگی میری خواہش نہیں ہے مجھے زندگی نے چنا ہے لہٰذا مرے فیصلے زندگی کر رہی میں روتا نہیں ہوں مری آنکھ سے اوس کے پھول غم کی ہوائیں گراتی ہیں کلیاں ہنسی کی مرے لب پہ کھلتی نہیں ہیں خوشی کی بہاریں ...

مزید پڑھیے

تمنا کا دوسرا قدم

وقت اور نا وقت کے مابین کتنا فاصلہ کتنا خلا کتنی گھنیری خامشی ہے جاننے کی کوششوں میں آنکھ کی اور دل کی اجلی آنکھ کی بینائیاں کم پڑ گئی ہیں سوچتا ہوں سوچ کا کوئی پرندہ بھیج کر اس حد لا حد کا کوئی اندازہ کر لوں خود سے کہتا ہوں تجھے معلوم ہے یہ کام سوچوں کے پرندوں کا نہیں تخئیل کا ...

مزید پڑھیے

نظم گو کے لیے مشورہ

نظم کہوگے کہہ لوگے کیا؟ دیکھو اتنا سہل نہیں ہے بنتی بات بگڑ جاتی ہے اکثر نظم اکڑ جاتی ہے چلتے چلتے لا کو مرکز مان کے گھومنے لگ جاتی ہے لڑتے لڑتے لفظوں کے ہاتھوں کو چومنے لگ جاتی ہے سیدھے رستے پر مڑتی ہے موڑ پہ سیدھا چل پڑتی ہے حرف کو برف بنا دیتی ہے برف میں آگ لگا دیتی ہے چپ ...

مزید پڑھیے

سنگ بنیاد

ہوا نے سانس لیا تھا ابھی کہانی میں فلک کی آنکھ میں شعلے ابھی دہکتے تھے تھکن کی گوند نے چپکا رکھے تھے جسم سے پر شفق کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے پانی میں نماز عصر ادا ہونی تھی ہوئی کہ نہیں پرند جھیل پر اترے مگر وضو نہ کیا

مزید پڑھیے

کتھارسس

چیخنا ہے مجھے اس زمیں پر نہیں آسماں میں نہیں ان وجودوں کی لا میں خلا میں مجھے چیخنا ہے انا کی انا میں مگر کس سزا میں کہ جیون بتایا ہے اس کربلا میں مجھے چیخنا ہے خلا میں جہاں اپنی چیخیں میں خود ہی سنوں فیصلہ خود کروں ان وجودوں کو کیا میں جیوں یا مروں

مزید پڑھیے

رموز اوقاف کی نظم

کہاں پر لفظ لکھ کر فاصلہ دینا کہاں کومہ لگانا ہے کہاں قوسین میں لکھنا کہاں پیرا بنانا ہے کہاں احساس کو لکھنا ہے بس اس کے الف جتنا کہاں احساس کہاں احساس کو پورا دکھانا ہے طریقہ ہی نہیں آتا تمہیں تو نظم لکھنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا

مزید پڑھیے

مشترکہ خواب کی قبر پر

رات تیری مری آرزوؤں کا مسکن یہ رات گھور کالی سیہ بادلوں سے اٹی تیرے میرے گناہوں ثوابوں سوالوں جوابوں سے عاری یہ رات خون کی حدتوں میں دہکتی ہوئی سارے خوابوں کا ایندھن بناتی ہوئی رتجگوں کی چتا جو تری میری آنکھوں میں بھڑکی بھڑک کے بجھی ساری عمروں کے دکھ آتی جاتی ہر اک سانس میں ہیں ...

مزید پڑھیے

جواز

زندگی کتنی ہے عجیب و غریب زندگی کیا ہے اک تماشا ہے زندگی رہ گزار بے منزل بے طلب بے حصول جینا ہے ہیں فقط چند لوگ ہی مختار اور باقی جو ہیں وہ بندے ہیں کیا پھرے ہیں گلے میں لٹکائے رنج و مظلومیت کے پھندے ہیں پھر بھی جیتے ہیں کیا خبر کیا ہو کچھ دوامی نہیں نظام کہن گرچہ ہے یہ مقام‌ درد و ...

مزید پڑھیے

ملاقات

ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں ان گنت زاویے افکار کے لے آتے ہیں ان کھلونوں سے وہ اذہان کو بہلاتے ہیں اپنے کرتب پہ وہ اٹھلاتے ہیں اتراتے ہیں اور موہوم سی تسکین یوں ہی پاتے ہیں ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ...

مزید پڑھیے

رات

رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیں پوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہے پوچھنے سے کیا حاصل پوچھنے سے کیا ہوگا محشر اک بپا ہوگا شور ناروا ہوگا درد کم تو کیا ہوگا اور کچھ سوا ہوگا کون کس کی سنتا ہے کس کو اتنی فرصت ہے داد خواہ بننا بھی فعل بے فضیلت ہے داد سم قاتل ہے مرنا کس کو بھاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 713 سے 960