شاعری

بے چینی

خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تک گھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضا نہ جاننے سے چلی بات جاننے کی طرف سکوت موت ہے لیکن سکوت ختم ہوا جنوں سرشت سے جذبے عمل کی راہوں میں لباس اوڑھے ہوئے عزم کا نکلتے ہیں خرد کے دیس میں تنظیم زندگی لے کر بہت ہی کم ہیں جو ایسے سنور کے چلتے ہیں حیات ...

مزید پڑھیے

گرو نانک دیو جی

ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہ نکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہ کچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہ کہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہ تری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خوار دوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوار ترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میں بھری تھی روح لطافت ترے تکلم میں نوائے حق کی کشش تھی ترے ...

مزید پڑھیے

چارہ گر

رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوں جنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوں جو عرفان کی زندگی کو بڑھا دے میں وہ بادۂ جانفزا چاہتا ہوں مٹا کر مجھے آئی میں جذب کر لے بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں بیاں حال دل میں کروں کیوں زباں سے کوئی جانتا ہے میں کیا چاہتا ہوں مجھے کیا ضرورت ہے کیا تم سے مانگوں مگر میں ...

مزید پڑھیے

صبح صادق

رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سوا تیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پر افق زندہ و پائندۂ ننکانہ سے ہنس پڑی ایک کرن وقت کی تنہائی پر دل کے سنسان کھنڈر میں کوئی نغمہ جاگا آنکھ ملتی ہوئی اک صبح بیاباں سے اٹھی فکر آزاد ہوئی ذہن کے جالے ٹوٹے اور ایقان کی لو سینۂ انساں سے ...

مزید پڑھیے

تلاش نور

فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیات روشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیں نوع انساں کی فضاؤں پہ ہے ظلمت کا جماؤ شمع مہتاب کا کیا ذکر کوئی لو بھی نہیں ذہن تاریک ہیں اجسام کی دنیا ہے سیاہ ہے عناصر کی فضاؤں میں تلاطم برپا امن کی موج کا ملتا نہیں ہلکا سا نشاں زندگی میں ہے مقاصد کا ...

مزید پڑھیے

کہانی ایک رات کی

سن رہا ہوں دیر سے دھیمی سی دستک کی صدا کون ہوگا اس اندھیری رات میں ہوگا کوئی اجنبی راہی کی دستک تو نہیں جو کسی پر ہول سائے کے لپکتے قہقہے کی گونج سے بچ کے آ نکلا ہے میرے خانۂ تاریک تک واقعی وحشت زدہ ہوگا اگر راہی کوئی اس قدر محتاط سی آواز کیوں اس قدر دھیمی سی چاپ نیم کی شاخوں کے ...

مزید پڑھیے

بیوہ کی جوانی

بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہے بیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہے ممکن ہے کہ پیری میں سکوں پا سکے ورنہ جب تک وہ جواں ہے غم شوہر بھی جواں ہے ممتا سے ہے مجبور کہ اولاد کی خاطر جیتی ہے مگر جینا بہ ہر رنگ گراں ہے خوں گشتگیٔ دل کی دوا ہو نہیں سکتی کیا خاک تھمے خوں کہ جو آنکھوں سے رواں ...

مزید پڑھیے

مجازؔ کی موت پر

اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تو اے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے تو اے باعث فروغ گلستاں کہاں ہے تو اے رونق وجود خیاباں کہاں ہے تو پتھرا گئی ہیں آنکھیں ترے انتظار میں کچھ تو بتا کہ اے مہ تاباں کہاں ہے تو وہ تیرے شوق نغمہ سرائی کو کیا ہوا اے یار نغمہ ریز و غزل خواں کہاں ہے تو تیرے بغیر ...

مزید پڑھیے

بھوک میں دبے بچپن

شریر میں کوئی تڑپ سی ہوگی یا کوئی عادت سی پڑی ہوگی کئی دنو کی کئی چیزو کی بھوک تو ہوگی کوئی مقصد ہوگا یا یوں ہی زندگی ننگے پاؤں کی دوڑ ہوگی دھوپ کو پردوں سے واپس بھیج دیا امیروں نے وو جا کر کئی آنکھوں میں اندھیرے بھر رہی ہوگی کچھ ہے نہیں ٹکرانے کو کیا اسی کارن مایوسی میں لپٹی ...

مزید پڑھیے

تمہاری آنکھیں

تمہاری آنکھیں تم وہیں تو بستے ہو ایک جسم کو دنیا نے تمہارا نام دیا تمہیں پایا تمہاری آنکھوں میں ہے میں نے ان دو پلکوں نے چھوا ہے مجھے تمہاری انگلیوں کے جادوئی اسپرش سی میرے چہرے کی نرم گلابی گلیوں میں کھوئی میری زلفوں میں الجھی ہوئی ریشم سے تر بہ تر یہ آنکھیں کبھی ہونٹھ بن کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 711 سے 960