شاعری

ترے بغیر

درد گر بے حد ہوا تو حوصلے بڑھ جائیں گے تم زخم کریدو گے ہم اور نکھر جائیں گے تیری رنجشوں نے سانس دی بے چینیوں نے نیند ہمیں خوش نما ماحول اور سکون کاٹ کھائیں گے خود کو گلے لگا کر رونا بھی ہے حسین اپنے آپ سے لڑیں گے خود کی گود میں سو جائیں گے یہ نا سمجھنا کے یہ رفتار ہے تم سے تیرے ...

مزید پڑھیے

کیا وہیں ملو گے تم

کچھ دنوں سے میں جب بھی آئینے میں اپنی ہلکی سفید لٹیں دیکھتی ہوں ایک جانا پہچانا راستہ نظر آتا ہے جس کے ایک کنارے تم چل رہے ہو دوسرے پہ میں چپ چاپ اجنبی بن کر تمہارا دھندلا سا چہرہ وہ کالی فریم والے چشمے کانوں کے پاس اگی ہوئی کچھ ایسی ہی سفید لکیریں میں تمہیں غور سے دیکھ نہیں پا ...

مزید پڑھیے

اشک میرے اپنے

جا رہی ہوں میں کر رہی ہوں تمہارا گھر تمہارے حوالے خالی ہو جائے گی ہر وو جگہ جو میرے اشکوں سے بھری ہے ابھی لے جاؤں گی ہر اشک اپنے ساتھ سمیٹ کر کچھ گملوں کے پھول پہ اوس سے چمک رہے ہوں گے کچھ سج دھج کے بیٹھے ہوں گے دہلیز پہ زرد تھے جو کچھ جانے اڑ کے کہاں گرے ہوں گے کچھ مٹی کے اندر بیج بن ...

مزید پڑھیے

کاش

اس خاموش قلعے کی سخت لوہے سی دیواریں ہر طرف سفید غمگین پردہ وہ اپنی عالی شان کرسی پر بیٹھی کوئی حساب جوڑ رہی ہے اس کا پھیکا سپاٹ بوجھل چہرہ جیسے بھیتر کا ایک روپ اس کے اوپری روپ رنگ کو کھا چکا ہو اچانک دروازے کی دستک دبی ہوئی سسکیوں کا شور اونچے دروازے کو کھولتے ہی اس کی بھاؤ ...

مزید پڑھیے

پورا چاند

پورا چاند پورا چاند نہیں دیا تم نے مجھے میری یہ نادان شکایت یاد ہے تمہیں چھوٹے سے گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت سے چاند کو ٹکڑوں میں دیکھا کرتی تھی تم مجھے دیکھتے رہتے میں چھت میں کچھ ڈھونڈھا کرتی تھی ہاتھ بڑھا کر چھو لوں جی کرتا تھا تمہارے ہاتھ میں پروئی انگلیاں چھوٹا نہیں کرتی تھی کتنی ...

مزید پڑھیے

ایک اور شرابی شام

چلو آج ایک اور کوشش ہوگی پھر ایک شام ڈوب جائے گی شراب میں زندگی کے اندھیرے سرد ٹکڑے جام میں گھل کر ہونٹھوں کے حوالے ہوں گے زباں پہ تھرکتی تشنگی دھیرے دھیرے حلق تک پھیل جائے گی خاموشی کا لباس پہنے کونے میں قید تنہائی رہا ہوگی اور نس نس میں دوڑ کر رقص کرے گی میرے لہو میں بہہ رہے اس ...

مزید پڑھیے

بڑھاپے کی چوٹی

عمر اور راستے کٹتے چلے گئے ابھی ابھی سانسیں سنبھلی تھی نہ جانے کب حوصلے بھی سنبھلتے چلے گئے شروعاتی یہ راستے سیدھے سرل صاف ہوا کرتے تھے اونچائی پہ بڑھتے ہی پتھریلے ہوئے کانٹوں سے گرست ہاں کبھی کوئی جھرنا مل جاتا تھا پیڑ بھی چھاؤں لے کر میری مدد کو آتے تھے وہ جھرنے وہ چھاؤں مگر ...

مزید پڑھیے

1

حرفوں کی ترتیب الٹ کر کان کو ناک بنا سکتا ہوں ناک کو کان بنا سکتا ہوں شیر کو ایک اشارے پر میں بندر ناچ نچا سکتا ہوں بندر کو جنگل کا راج دلا سکتا ہوں سچ کو جھوٹ بنا سکتا ہوں جھوٹ کو سچ بنا سکتا ہوں

مزید پڑھیے

آواز کا نوحہ

گڑیا! بولو گڑیا! اپنی آنکھیں کھولو گڑیا! دل پہ بوجھ ہے کوئی تو جتنا جی چاہے رو لو گڑیا! یہ خاموشی مجھ کو کاٹ رہی ہے گڑیا! موت کی دیمک مجھ کو چاٹ رہی ہے

مزید پڑھیے

ایک سب آگ ایک سب پانی

ہمارے غم جدا تھے قریۂ دل کی فضا آب و ہوا موسم جدا تھے شام تیرے جسم کی دیوار سے چمٹی ہوئی تھی مجھ کو کالی رات کھاتی تھی تجھے آواز دیتی تھی ترے اندر سے اٹھتی ہوک مجھ کو بھوک میری روح سے باہر بلاتی تھی تجھے پاؤں میں پڑتی بیڑیوں کا روگ لاحق تھا مجھے آزادی پہ شک تھا تجھے اپنوں نے اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 712 سے 960