شاعری

بے پرواہ عمر

دیکھو تم گنتی نمبروں کے حساب کتاب میں مت جاؤ سب دکھاوا چھلاوا سا ہے میں تو ابھی بھی وہی اسٹاپو کھیلنے کی باری کے انتظار میں ہوں گھر پر پیر پٹکتی ننھی بچی سی موٹے موٹے آنسو لئے کونے میں بیٹھی سی ہوں بارشوں میں چھپ چھپ کر مٹی میں سنے پاؤں سے بے پرواہ ہوا سی ہوں کہرے سے بھرے شیشے پر ...

مزید پڑھیے

رنگین جلد

تم میری مضبوط سی دیوار ہو میرے کمزور پلوں کی جلد سی تبھی ہر موسم سے بے خوف بچایا ہے اسے جلد سخت اور وہی رنگین سی رہے پچھلے برس یاد ہے کتنی امس تھی ہم گلنے سے لگے تھے آنسوؤں سے یا بدلے موسم سے شاید دونوں سے جانتی ہوں جلد کی فطرت کسی بندھی پختہ کونے روندنے کے بعد بھی مضبوط سی لیکن اب ...

مزید پڑھیے

نقاب

مسلسل گر یہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تو یقیناً تمہیں محبت ہو جاتی ابھی ان سے انس ہوا ہی تھا کہ تلخیاں نظر آنے لگی شاید وابستہ تھے ہم کبھی کہیں ورنہ خدایا کوئی سبب تو دے میری بے‌ چینیوں کا کوئی گلہ کوئی شکوہ کچھ تو کر محبت نہ سہی یقیناً پر یہ شیرے سے گھلے لہجے کا پردہ فاش تو کر

مزید پڑھیے

سرکاری اور غیر سرکاری دو عیدیں

ریڈیو نے دس بجے شب کے خبر دی عید کی عالموں نے رات بھر اس نیوز کی تردید کی ریڈیو کہتا تھا سن لو کل ہماری عید ہے اور عالم کہتے تھے یہ غیر شرعی عید ہے دو دھڑوں میں بٹ گئے تھے ملک کے سارے عوام اس طرف سب مقتدی تھے اس طرف سارے امام بیٹا کہتا تھا کہ کل شیطان روزہ رکھے گا باپ بولا تیرا ...

مزید پڑھیے

کرکٹ اور مشاعرہ

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے وہاں جو لوگ کھلاڑی ہیں وہ یہاں شاعر یہاں جو صدر نشیں ہے وہاں ہے امپائر وہاں پہ شرط کہ ہو زور بازوئے محمود یہاں یہ قید کہ ہو لحن حضرت داؤد وہاں تمدن مشرق کی موت کا غم ہے یہاں ادب کے جنازہ پہ شور ماتم ہے وہاں ریاض ...

مزید پڑھیے

نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہے

نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہے مری راہ پھر بھی ہے مختلف ترا راستہ کوئی اور ہے پس مرگ خاک ہوئے بدن وہ کفن میں ہوں کہ ہوں بے کفن نہ مری لحد کوئی اور ہے نہ تری چتا کوئی اور ہے وہ جو مہر بہر نکاح تھا وہ دلہن کا مجھ سے مزاح تھا یہ تو گھر پہنچ کے پتہ چلا مری اہلیہ کوئی اور ...

مزید پڑھیے

مرحلہ

میری ہر اک نظر نے سجدہ کیا رونق حسن و جان روئے نگار پھر بھی جنبش نہ ہو سکی تجھ کو کتنا مضبوط ہے ترا کردار کیا خبر تجھ کو پیار ہو کہ نہ ہو ہوں تری ہر خوشی کے ساتھ مگر تیری فکر و ادا سمجھ نہ سکوں بر محل جیسے بج سکے نہ گجر ذہن کی کچھ عمیق راہوں میں خود کو کھویا ہوا سا پاتا ہوں جانے کیا ...

مزید پڑھیے

کل سے آج تک

مگر وہ سب کچھ بھلا چکی ہے کہ جس کے ہم راہ بیتا بچپن کہ جس کے ہم راہ تھی جوانی امنگیں پروان چڑھ رہی تھیں وہ بے خبر روز و شب کی یادیں کبھی کبھی چھوٹی موٹی باتوں پہ روٹھ جانا نہ بات کرنا نہ ساتھ رہنا جو میں مناؤں تو وہ نہ مانے وہ پیار کیا تھا خدا ہی جانے مگر وہ سب کچھ بھلا چکی ہے کہ جس ...

مزید پڑھیے

خوابوں خیالوں کی اپسرا

سخن فریب کوئی مہرباں کی طرح دیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرح یہ مسکراتی ہوئی صبح و شام و شب کی دلہن دل و نظر کے لیے سود بے زیاں کی طرح یہ امتزاج زر شرق و غرب کا کلچر نگاہ حسن لیے عشق عاشقاں کی طرح حریر و ریشم و دیبا میں رنگ ناز و ادا سکون دل کے لیے ہیں قرار جاں کی طرح یہ رنگ رنگ کے ...

مزید پڑھیے

نقش فریادی

وائے ناداریاں ہائے مجبوریاں رسم و آداب کے بس میں ہے زندگی غیر کی ہو کے پردیس جاتی ہو تم حسرت و یاس و حرماں میں ڈوبی ہوئی جیسے شاداب سی جھیل میں اک کنول چڑھتے سورج کی تیزی سے کملائے ہے یا بہ عہد بہاراں کسی اک سبب جیسے پھولوں سے رنگت اتر جائے ہے ہر سہیلی تبسم بہ لب ہے مگر تم ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 710 سے 960