بے پرواہ عمر
دیکھو تم گنتی نمبروں کے حساب کتاب میں مت جاؤ سب دکھاوا چھلاوا سا ہے میں تو ابھی بھی وہی اسٹاپو کھیلنے کی باری کے انتظار میں ہوں گھر پر پیر پٹکتی ننھی بچی سی موٹے موٹے آنسو لئے کونے میں بیٹھی سی ہوں بارشوں میں چھپ چھپ کر مٹی میں سنے پاؤں سے بے پرواہ ہوا سی ہوں کہرے سے بھرے شیشے پر ...