شاعری

یاد

یاد ایک بے رنگ بے مہک مرجھایا ہوا گلاب جس کے کانٹوں کی چبھن باقی رہتی ہے صدا یاد ماضی کی بنائی ہوئی ایک دھندلی تصویر میل نہیں کھاتا جس سے حال کا چہرہ پھر بھی لگی ہے دل کی دیوار پر یاد ٹوٹا پھوٹا ایک ایسا کھلونا جس سے انسان دل بہلانا چاہے بے کار ہونے کے باوجود اسے پھینکنا نہیں ...

مزید پڑھیے

کردار

زندگی کے ناٹک میں ایک اداکارہ ہوں میں یہ ہوگا المیہ یا رزمیہ کون بتا سکتا ہے جب پردہ اٹھتا ہے مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے کچھ سوچے سمجھے بغیر دوسرے اداکاروں کے اشاروں پر بولنے پڑتے ہیں اپنے مکالمے میرے کردار ہیں بے شمار مختلف جذبات لیے مدد کرنے کے لئے مجھے پس پردہ کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

رشتے کی سچائی

ہم جانتے ہیں یہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گی فاصلے کی دیواریں ہم دونوں کے درمیان بڑھتی رہیں گی یہ کیسا رشتہ ہے ہم دونوں اپنے اپنے احساسات سے واقف ہیں مگر یہ رسم و رواج آدمی سے آدمی کی تفریق کے۔۔۔ ہم دونوں محض اپنی آنکھوں کے علاوہ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے آب زم زم یا گنگا جل ایک ...

مزید پڑھیے

بدلتے پہلو

کتنی دل کش ہوتی ہیں خوش فہمیاں ختم ہونے سے پہلے بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب بکھرنے سے پہلے بہت حسین ہوتے ہیں پھول مرجھانے سے پہلے بے حد خوبصورت ہوتی ہے محبت بے وفائی سے پہلے ہر آغاز پہنچتا ہے انجام کو ملن کا پیچھا کرتی ہے جدائی دن کے پہلو میں رہتی ہے رات اور زندگی کا دامن تھامے سایہ ...

مزید پڑھیے

لاشیں

لاش کو دفنانا آسان کام نہیں ہے مرنے والے کے احباب کو لگتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور کسی بھی وقت اٹھ کر انہیں گلے لگا سکتا ہے یہی سوچ کر وہ اس لاش کے دامن کو چھوڑنا نہیں چاہتے کوئی معجزہ ہونے پر ہی لاش میں جان آ سکتی ہے چاہے وہ موت انسان کی ہو یا کسی رشتے کی

مزید پڑھیے

نظموں کے لیے دعائے خیر

میری تمام کائنات گھاس کے ورق کی طرح سوکھنے لگے تو تم اس تنہا رستے پہ آؤ گے؟ تخلیق کے چپ مالک! آقا! خدا! تم کہ کھوئے ہوؤں کے درد مدتوں سنبھالے رہے ہو اس رستے پہ کہ جہاں مجھے کبھی یقیں نہ ہو سکا کہ پانی مانگوں تو کیسے روٹی یا عافیت یا محض پہچان کی بھیک مانگوں تو کیسے تم آؤ گے؟ جلے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مہاجر

یہاں کبھی کبھی دھوپ بھی زینہ زینہ یوں اتری ہے جیسے اجنبی ہو اور مجھے وہ لوگ یاد آئے ہیں جو اپنے وطن سے بچھڑ گئے مہاجر جلا وطن جنہوں نے سمجھا تھا کہ اجنبی شہر میں موت کم لوگوں کو آتی ہے جو یہاں اس گمان میں آئے تھے کہ عافیت دائم رہے گی تم نے ڈھلتے سایوں کی سیاست سے گریز کیا ہے تم ...

مزید پڑھیے

چاند

چاند قریب آؤ بیٹھو میرے پاس میرے چپ دوست مجھے دو چیتے کا نقرئی داغ دار بدن برفیلی رات میں دبا ہوا جو تمہاری گود میں ہے مجھے سکھاؤ دو لفظ ہسپانوی چینی پرتگالی اخلاص کے وہ سبز لفظ جو تم نے سنے ہیں اپنی چاندنی میں خوف پا گزرے ہوؤں کی امانت کی طرح جذب کر لیے ہیں مجھے دو عورتوں اور ...

مزید پڑھیے

آواگون

واپسی واپسی شکستہ بوڑھے شہر تیری گلیاں نہ جانے کب سے اکھڑے ہوئے سانسوں کی طرح باہم الجھتی رہی ہیں مٹی اور فولاد اور لکڑی کے شہر میں مقدر کی مثال ایک بار پھر پلٹ آیا ہوں

مزید پڑھیے

پہچان

وہ لمحہ آئینوں کا دریا جس میں تم نے اپنا آپ پہچانا جس میں تم نے جانا کہ اپنے وجود میں قید تم محض سراب ہو کہ شعروں میں محفوظ ہو تو تم آواز نہیں بازگشت نہیں محفل آوازوں ارادوں کا خواب ہو اس دانش گاہ کے بادلوں میں کوندے بھرے ہیں میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو سیاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 702 سے 960