یاد
یاد ایک بے رنگ بے مہک مرجھایا ہوا گلاب جس کے کانٹوں کی چبھن باقی رہتی ہے صدا یاد ماضی کی بنائی ہوئی ایک دھندلی تصویر میل نہیں کھاتا جس سے حال کا چہرہ پھر بھی لگی ہے دل کی دیوار پر یاد ٹوٹا پھوٹا ایک ایسا کھلونا جس سے انسان دل بہلانا چاہے بے کار ہونے کے باوجود اسے پھینکنا نہیں ...