شاعری

میری بیٹی چلنا سیکھ گئی

میری بیٹی انگلی چھوڑ کے چلنا سیکھ گئی سنگ میل پہ ہندسوں کی پہچان سے آگے آتے جاتے رستوں کے ہر نام سے آگے پڑھنا سیکھ گئی جلتی بجھتی روشنیوں اور رنگوں کی ترتیب سفر کی سمتوں اور گاڑی کے پہیوں میں الجھی راہوں پر آگے بڑھنا سیکھ گئی میری بیٹی دنیا کے نقشے میں اپنی مرضی کے رنگوں کو ...

مزید پڑھیے

وہ اک لمحہ

بیت گئے ہیں کتنے دن جب تم نے یہ مجھ سے کہا تھا تم مجھ کو اچھی لگتی ہو اور میرے ہاتھوں پر تم نے ایک وہ لمحہ چھوڑ دیا تھا وہ لمحہ جو ان دیکھی زنجیر کی صورت روح سے لپٹا دل میں اترا خون میں تیر گیا آج اسی لمحے کو تھامے کھڑی ہوئی ہوں سیڑھی پر

مزید پڑھیے

کون ہوں میں

سوچتی ہوں کون ہوں میں نام بتلا دو مرا تم بھول جاتی ہوں کبھی خود کو بھٹک کر راستے سے لوٹتی ہوں جیسے رہ جائے کوئی شے بے سبب ہی ڈھونڈھتی ہوں جانے کس کا ایک چہرہ جس کے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے نام میرا ڈھونڈھتی ہوں آج بھی میں ذات اپنی نام اپنا

مزید پڑھیے

تنہائی

اپنی تنہائی مجھے اچھی لگی میں نے چاہا ہے اسے اور پایا بھی اسے اپنے روز و شب میں اکثر ہے بسایا بھی اسے اسی نے دی ہیں مجھ کو ایسی خلوتیں جن میں رہ کر میں کبھی تنہا نہیں ساتھ میرے انگنت ایسے احساسات ہیں جن سے حاصل ہے مری تنہائیوں کو اک سکوں اک رفاقت غم گساری رہنمائی رہبری پا کے میں ...

مزید پڑھیے

حوصلہ

نکل گئی ہوں زمیں کی حد سے فلک کی جانب رواں ہوئی ہوں میں مثل شعلہ ہوئی ہوں پھر بھی زمانہ سمجھا دھواں ہوئی ہوں چراغ خانہ چراغ محفل ہر اک جگہ میں عیاں ہوئی ہوں فنا کے کتبے بہت ہیں لیکن تری بقا کا نشاں ہوئی ہوں

مزید پڑھیے

خوف

نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے خواب دیکھا تو پھر آس لگ جائے گی آس ٹوٹی تو آنکھوں میں چبھتی ہوئی کرچیاں خوں رلائیں گی آنکھوں کو بے نور کر جائیں گی خوش گمانی کی اڑتی ہوئی تتلیاں رنگ کھو دیں گی بے موت مر جائیں گی اس لیے نیند سے میری بنتی نہیں آنکھ لگتی نہیں خواب کے خوف سے بھول کر بھی ...

مزید پڑھیے

اب گلہ نہیں کرنا

اب کے ہم نے سوچا ہے جس نے بھی رلایا ہو لاکھ دل دکھایا ہو مسکرا کے ملنا ہے اب کسی امید کا محل کھڑا نہیں کرنا خود سے اب نہیں لڑنا تم سے کچھ نہیں کہنا اب گلہ نہیں کرنا یاد کے کنارے اور خواب کے جزیرے تو کب ہیں اختیار میں ہاں مگر حقیقت کے راستوں پہ بھول کر تم سے اب نہیں ملنا جھیل جیسی ...

مزید پڑھیے

سنو

اک بات کہنی ہے محبت کرنے نکلے ہو تو اتنا ذہن میں رکھنا انا کی بات نہ سننا صلے کی آس نہ رکھنا

مزید پڑھیے

گریز

کس قدر عجیب ہے دیکھتا نہیں مجھ کو بولتا نہیں مجھ سے میں جو بات کرتی ہوں ان سنی سی کرتا ہے دور دور رہتا ہے جانے کس سے ڈرتا ہے بے خبر ہے وہ لیکن یوں گریز کرنے سے راستے بدلنے سے کون دل سے نکلا ہے

مزید پڑھیے

ایاز چپ ہے

ایاز چپ ہے صدائے محمود حرب تازہ کی تیز تر رو میں بہہ گئی ہے ایاز چپ ہے ایاز چپ ہے کہ اب اسیران شب بھی خوابیدہ عکس لے کر تھکی تھکی خواہشوں کے سینوں پہ سو گئے ہیں وہ دن کہ جس دن جلے ہوئے طاقچوں پہ حرفوں کی بے کفن لاش دفن ہوگی وہ دن کلینڈر کی سبز تہ سے سرک گیا ہے ایاز چپ ہے لٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 661 سے 960