شاعری

دن گزر جائے گا

حد ادراک سے ماورا منزل خاک تک ایک آراستہ جھومتے جھامتے عصر سے لمحۂ چاک تک دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا نیم معلوم صدیوں کے سینۂ اسرار کو دائرہ دائرہ کھولتے کھولتے اپنے چھبیس برسوں کا سونا ترے غم کی میزان پر تولتے تولتے دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا کیش کی ...

مزید پڑھیے

عجلت میں پشیمانی کا تذکرہ

ہم کہیں ساعت بے بال و پری کھول کے دم لیتے ہیں ریگ زاروں سے نکلتے ہیں روانی لے کر اور اتر جاتے ہیں گدرائے ہوئے پانی میں بس اسی پانی میں ہے اپنی ہوس اپنے چلن کا قصہ یہ چلن خواب گہ ہست سے ہوتا ہوا کاشانے تلک جاتا ہے جس کی درزوں سے دعا جھانکتی ہے اور خلقت ہے کہ غفلت بھرے پہروں میں ہوا ...

مزید پڑھیے

معلوم کرو

کیا اگلا موڑ وصال کا ہے کیا اگلا حکم دھمال کا ہے معلوم کرو معلوم کرو وہ منزل چوتھے کوس پہ ہے جس منزل پر انکار درون ذات الم احساس بد دور ہو جائے گا اور پارہ پارہ جذبوں کی یکجائی سے اقرار امر ہو جائے گا جب عمروں کے تخمینوں سے کچھ قدموں پر اک بھیڑ لگے گی سانسوں کی ان سانسوں کی جو چھن ...

مزید پڑھیے

ترے عدل کے ایوانوں میں

ڈھل گئی رات تری یاد کے سناٹوں میں بجھ گئی چاند کے ہم راہ وہ دنیا جس کا عکس آنکھوں میں لیے میں نے تھکن باندھی تھی نیم گھائل ہیں وہ شفاف ارادے جن پر کتنی معصوم تمناؤں نے لبیک کہی جانے کس شہر کو آباد کیا ہے تو نے دھڑکنیں بھیگتی پلکوں سے بندھی جاتی ہیں زندگی عصر ہمہ گیر میں بے معنی ...

مزید پڑھیے

یوں بھی ہوتا ہے کہ اپنے آپ آواز دینا پڑتی ہے

دنیا بے صفتی کی آنکھ سے دیکھ یہ تکوین، ،زمان زمینیں، مستی اور لگن کی لیلا اک بہلاوا ہے اس بہلاوے میں اک دستاویز ہے جس کا اول آخر پھٹا ہوا ہے دودھیا روشن شاہراہوں پر کتنے یگ تھے جن میں خاموشی کے لمبے لمبے سکتے ہیں بارش اور ماٹی کا ذکر نہیں پھر بھی ہم نے معنی اور امکان کی بے ترتیبی ...

مزید پڑھیے

دو تہوں والی سرگوشی

سماعتیں پھول چن رہی ہیں کہ خاک میں لو کا استعارہ ہراس کی منزلوں سے ہو کر ہمارے سینوں میں موجزن ہو ہماری آنکھیں ہمارے حلقے نہ جانے کس دن سے منتظر ہیں کہ وہ بھی دیکھیں کوئی ستارہ کوئی ستارہ جو نیلگوں پانیوں کے اندر نشیب کو روشنی سے بھر دے سماعتیں پھول چن رہی ہیں کہ حبس ٹوٹے ہوا چلے ...

مزید پڑھیے

کشتگان خنجر تسلیم را

سکینہ! جب کہانی ختم ہوگی خاک کی تاثیر بدلے گی زمیں شعلہ بہ شعلہ کھینچ لی جائے گی ان تاریک کونوں میں جنہیں روشن زمانے سطر مستحکم کے اندر فاصلوں میں رکھ گئے تھے سکینہ! جب بدن فرش ستم پر دو قدم چلنے لگے گا عصر بے ہنگام سے جیون نئی دنیاؤں کے رستے نکالے گا میان آب و گل کس کو خبر کیا کیا ...

مزید پڑھیے

روح عصر رواں

وہ علم گر گئے جن کے سائے تلے عشق کی اولیں سطر لکھی گئی پھول بھیجے گئے دشمنوں کے لئے اب ملو بھی کہ اے روح عصر رواں رنگ جلنے لگے روپ ڈھلنے لگے دوسرے پہر میں تیرہویں ضرب پر کٹ گئے دن کے راجے کڑی دھوپ میں شاخ تا شاخ مرجھا گئیں رات کی رانیاں اب ملو بھی کہ اے روح عصر رواں آنسوؤں میں سجا ...

مزید پڑھیے

لکیریں

اے طائر تمنا اک دوسرے کی خاطر کیسے رکے پڑے ہیں تو بھی تری زباں بھی میں بھی مرا قلم بھی واماندگی کی لو میں یہ کون سی زمیں ہے جس کی نمو سے میری سانسیں رکی ہوئی ہیں یہ کون سا فلک ہے جس کی تہوں میں شب کی بے گانگی دھری ہے!

مزید پڑھیے

ہم تو بس

ہم تو بس پیشی بھگتانے آئے ہیں ہم نے کیا لینا دینا ہے رقص صبا سے تم سے اس میلے سے جس میلے میں دستاویز پر دستخطوں کی پہلی فصل بچھی تھی اور زمانہ دو فرسنگ کی نا ہموار مسافت پر حیران کھڑا تھا ہم نے کیا لینا دینا ہے چاند سے چاند کی بڑھیا اور اس کے چرخے سے اس آنسو سے جو ٹپکا تو ہجر ہماری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 662 سے 960