اسکیچ
یاد ہے اک دن میری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے ایک اسکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو اس پودے پر پھول آیا ہے!
یاد ہے اک دن میری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے ایک اسکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو اس پودے پر پھول آیا ہے!
میرے کپڑوں میں ٹنگا ہے تیرا خوش رنگ لباس! گھر پہ دھوتا ہوں ہر بار اسے اور سکھا کے پھر سے اپنے ہاتھوں سے اسے استری کرتا ہوں مگر استری کرنے سے جاتی نہیں شکنیں اس کی اور دھونے سے گلے شکوؤں کے چکتے نہیں مٹتے! زندگی کس قدر آساں ہوتی رشتے گر ہوتے لباس اور بدل لیتے قمیضوں کی طرح!
روح دیکھی ہے؟ کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟ جاگتے جیتے ہوئے دودھیا کہرے سے لپٹ کر سانس لیتے ہوئے اس کہرے کو محسوس کیا ہے؟ یا شکارے میں کسی جھیل پہ جب رات بسر ہو اور پانی کے چھپاکوں میں بجا کرتی ہیں ٹلیاں سبکیاں لیتی ہواؤں کے بھی بین سنے ہیں؟ چودھویں رات کے برفاب سے اک چاند کو ...
جانے کیا بات ہوئی تم نے اپنی راہیں بدلیں آنکھیں پھیریں اپنا رخ موڑ لیا تم کو ڈھونڈنے نکلوں گی جب آنکھیں بادل بن جائیں گی غم کے سائے بڑھ جائیں گے راہ میں پتھر آ جائیں گے راہ کے کانٹے چنتے چنتے پاؤں بھی چھلنی ہو جائیں گے زخم سراپا بن جاؤں گی غم کی شدت راہ اندھیری میں پاگل ہو جاؤں ...
یہ تم نے کیا کہا تھا اس نیلے آکاش کو بڑھ کے چھونا ہے ہر لمحہ آگے بڑھتے رہنا ہے لیکن اے کاش ایسا ہوتا تم مجھ سے بچھڑ نہ پاتے میں راہ کی ہر اک دشواری کو ہنستے ہنستے سہہ لیتی درد کا جنگل رستے میں گر آ جاتا نہ میں ڈرتی نہ گھبراتی آکاش کو بڑھ کے چھو لیتی چاند ستارے توڑ کے میں لے آتی لیکن ...
رقص کرتی ہوئی گنگناتی ہوئی مسکراتی ہوئی زندگی کیا ہوئی جگمگاتے ہوئے شہر کو کیا ہوا روشنی کیا ہوئی پھول جیسے بدن رنگ و بو کے چمن پیار کے ساحلوں کی فضا پھول کی ڈالیوں سے لپٹتی ہوا چشم احساس کے سامنے دور تک آج کچھ بھی نہیں عہد و پیماں کے رشتوں کو کس کی نظر کھا گئی دوستی کیا ہوئی کتنے ...
مریم نے خواب دیکھا جنگل میں ہے وہ تنہا اتنے میں جھاڑیوں سے اک شیر جھٹ سے نکلا دیکھی جو شکل اس کی مریم پہ خوف چھایا بیچاری جی میں سہمی اب شیر مجھ پہ جھپٹا پر شیر کا تو اس دم کچھ اور ہی تھا نقشہ تھا وہ بہت پریشاں سہما سا اور ڈرا سا لٹکی ہوئی تھی گردن اترا ہوا تھا چہرہ آنکھوں ...
اللہ میاں میں تیرے صدقے بیکس کی فریاد تو سن لے مجھ کو نہ دے تو دودھ ملائی مجھ کو نہ دے تو نان خطائی لڈو پیڑے برفی جلیبی کب ہیں یہ قسمت میں میری ایک نوالہ میری غذا ہے وہ بھی نہیں مجھ کو ملتا ہے اس گھر میں ہے ڈھیروں ہر شے میرے لیے پر کچھ بھی نہیں ہے جام مربے چٹپٹی چیزیں بند ہیں ...
ایک تھا گھوڑا عجب نرالا باتیں ہوا سے کرنے والا رنگ اس کا چتکبرا ایسا ساون ماس کے بادل جیسا قد تھا اس کا یوں تو چھوٹا جسم تھا لیکن خاصا موٹا سرکس میں کرتب دکھلاتا چھوٹے بڑوں کو خوب ہنساتا اچھلا کودا ناچا کرتا اور ہوا میں طرارے بھرتا اک دن سرکس میں چھٹی تھی گھوڑے کو بس سیر کی ...
گڑیا ہماری ہے پیاری پیاری گڑیا نے پہنے پھولوں کے گہنے گڑیا نے اوڑھی گوٹے کی چنری گڑیا نے دیکھے میلے تماشے گڑیا نے کھائے کھیلیں بتاشے گڑیا کی صورت چینی کی مورت گڑیا کی پلکیں گالوں پہ جھلکیں گڑیا ہے سوئی خوابوں میں کھوئی گڑیا ہے ہنستی گڑیا ہے روتی گڑیا سے کھیلوں گودی میں لے ...