شاعری

الاؤ

رات بھر سرد ہوا چلتی رہی رات بھر ہم نے الاؤ تاپا میں نے ماضی سے کئی خشک سی شاخیں کاٹیں تم نے بھی گزرے ہوئے لمحوں کے پتے توڑے میں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیں تم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولے اپنی ان آنکھوں سے میں نے کئی مانجے توڑے اور ہاتھوں سے کئی باسی لکیریں ...

مزید پڑھیے

تعاقب

صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتا سارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تک اس کی گردن کے بہت پاس سے گزرے ہیں کئی تیر مرے وہ بھی اب اتنا ہی ہشیار ہے جتنا میں ہوں اک جھلک دے کے جو گم ہوتا ہے وہ پیڑوں میں میں وہاں پہنچوں تو ٹیلے پہ کبھی چشمے کے اس پار نظر آتا ہے وہ نظر رکھتا ...

مزید پڑھیے

گرہیں

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کے اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن اک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی میں نے تو اک بار بنا تھا ایک ہی رشتہ لیکن اس کی ...

مزید پڑھیے

الجھن

ایک پشیمانی رہتی ہے الجھن اور گرانی بھی آؤ پھر سے لڑ کر دیکھیں شاید اس سے بہتر کوئی اور سبب مل جائے ہم کو پھر سے الگ ہو جانے کا

مزید پڑھیے

ایک خواب

ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نے تو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کی اور چلی آئی ہے بس یوں ہی مرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی ہر چیز سنبھالے ہوئے اپنائے ہوئے تو تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔ میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار اور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے ...

مزید پڑھیے

خود کشی

بس اک لمحہ کا جھگڑا تھا در و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہے ہر اک شے میں گئیں اڑتی ہوئی، جلتی ہوئی کرچیں نظر میں، بات میں، لہجے میں، سوچ اور سانس کے اندر لہو ہونا تھا اک رشتے کا سو وہ ہو گیا اس دن!! اسی آواز کے ٹکڑے اٹھا کے فرش سے اس شب کسی نے کاٹ لیں نبضیں نہ کی ...

مزید پڑھیے

لکڑی کی کاٹھی

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائی گھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائی دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈی سبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ...

مزید پڑھیے

میں کائنات میں

میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھا دھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرح میں اس زمیں پہ بھٹکتا رہا ہوں صدیوں تک گرا ہے وقت سے کٹ کر جو لمحہ اس کی طرح وطن ملا تو گلی کے لیے بھٹکتا رہا گلی میں گھر کا نشاں ڈھونڈتا رہا برسوں تمہاری روح میں اب جسم میں بھٹکتا ہوں لبوں سے چوم لو ...

مزید پڑھیے

عادت

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے جئے جانا بھی کیا روایت ہے کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں کوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں پاؤں بے حس ہیں چلتے جاتے ہیں اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے کتنے برسوں سے کتنی صدیوں سے جئے جاتے ہیں جئے جاتے ہیں عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں

مزید پڑھیے

سدھارتھ کی ایک رات

کوئی پتا بھی نہیں ہلتا، نہ پردوں میں ہے جنبش پھر بھی کانوں میں بہت تیز ہواؤں کی صدا ہے کتنے اونچے ہیں یہ محراب محل کے اور محرابوں سے اونچا وہ ستاروں سے بھرا تھال فلک کا کتنا چھوٹا ہے مرا قد۔۔۔ فرش پر جیسے کسی حرف سے اک نقطہ گرا ہو سینکڑوں سمتوں میں بھٹکا ہوا من ٹھہرے ذرا دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 643 سے 960