شاعری

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میں سرخ لہو نے بہتے بہتے حیرانی سے تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا ابھی تو میں ان نیلی گرم رگوں میں کیسے دوڑ رہا تھا بجھتی ہوئی اک سانس کی لو نے اپنے ننھے جیون کی اس آخری تیز کٹیلی ہچکی کو جھٹکا دو خالی نظریں دور دھویں کے پار کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں ابھی ابھی تو نیلا ...

مزید پڑھیے

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتے ایک روپہلے منظر نے کچھ سوچا پلٹا پگڈنڈی سنسان پڑی تھی مٹیالی اور سرد ہوائیں ہاتھ جھلاتی شاخیں روکھے سوکھے پتے تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے چٹخ رہے تھے ٹوٹ رہے تھے خاک اڑاتی پگڈنڈی پر شام سمے کا دھندلا بادل جھکنے لگا تھا ڈھلتے ڈھلتے ایک روپہلے منظر کی ان بھید بھری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف پھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پر زندگی کے کسی فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن جمی ہے یہاں آج تک ننھے دھبے میں اک بے کلی میرے احساس کی اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی چائے کا اک پرانا نشاں اب بھی تکتا ...

مزید پڑھیے

ایک دور

چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخن اور جنگل سے گزرتے ہوئے معصوم مسافر اپنے چہروں کو کھرونچوں سے بچانے کے لیے چیخ پڑے تھے چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اتر آئے تھے شاخوں سے لٹکتے ہوئے آسیب تھے ...

مزید پڑھیے

نظم

نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا بس ترا نام ہی مکمل ہے اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!

مزید پڑھیے

امیجز

میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھا جہاں پردے پہ اک فلم کے کردار زندہ جاوید نظر آتے تھے ان کی ہر بات بڑی، سوچ بڑی، کرم بڑے ان کا ہر ایک عمل ایک تمثیل تھی بس دیکھنے والوں کے لئے میں اداکار تھا اس میں تم اداکارہ تھیں اپنے محبوب کا جب ہاتھ پکڑ کر تم نے زندگی ایک نظر میں بھر کے اس کے سینے پہ بس ...

مزید پڑھیے

خدا

پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے! کالے گھر میں سورج رکھ کے تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے میں نے ایک چراغ جلا کر اپنا رستہ کھول لیا تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا میں نے کال ...

مزید پڑھیے

ایک اور رات

رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہے رات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیں کانچ کا نیلا سا گنبد ہے اڑا جاتا ہے خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے اور سناٹوں کی اک دھول اڑی جاتی ہے کاش اک بار کبھی نیند سے اٹھ ...

مزید پڑھیے

دیر آمد

آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شاید ایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کا چار اعشاریہ بلین سالوں کی عمر تو بیت چکی ہے کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں اور اب مل کر کس دنیا کی دنیا داری سوچ رہی ہو کس مذہب اور ذات اور پات کی فکر لگی ہے آؤ چلیں اب تین ہی بلین سال بچے ہیں

مزید پڑھیے

پومپیئے

پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاں ایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاں شہر کھودا تو تواریخ کے ٹکڑے نکلے ڈھیروں پتھرائے ہوئے وقت کے صفحوں کو الٹ کر دیکھا ایک بھولی ہوئی تہذیب کے پرزے سے بچھے تھے ہر سو منجمد لاوے میں اکڑے ہوئے انسانوں کے گچھے تھے وہاں آگ اور لاوے سے گھبرا کے جو لپٹے ہوں گے وہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 639 سے 960