شاعری

نظم

یہ سچ ہے ہم جسے مصلوب کرنے جا رہے ہیں وہ نہ رہزن ہے نہ زانی ہے مگر یہ جرم اس کا کم نہیں ہے وہ ہمارے بد دیانت شہر میں تلقین کرتا ہے دیانت کی تمہیں معلوم ہے ہم سب شریک جرم ہیں ہم سب کے چہروں پر سیاہی ہے گناہوں کی تو کیوں نہ سرخ رو ہو جائیں دھو کر اس کے خوں سے اپنے چہروں کی سیاہی کو

مزید پڑھیے

نظم

یوں اچانک ملاقات تجھ سے ہوئی جیسے رہ گیر کو بے طلب بے دعا راہ میں ایک انمول موتی ملے اور ہنگام رخصت یہ احساس ہے جیسے مرد جفا کش کا اندوختہ حاصل محنت زندگی راہزن چھین لے جیسے زاہد کو پیری میں احساس ہو عمر بھر کی ریاضت اکارت گئی

مزید پڑھیے

میں ٹیچر کیوں ہوں

کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں آخر میں ٹیچر کیوں ہوں کچھ اور نہ کر سکی کیا اس لیے میں ٹیچر ہوں جواب یہی بس آتا ہے سب کچھ کر سکتی ہوں شاید اسی لیے میں ٹیچر ہوں ننھے منے بچوں میں میں اپنا بچپن دیکھتی ہوں کسی میں سر سیدؔ کسی میں کلامؔ دیکھتی ہوں کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں کہ مجھے صرف کتابوں ...

مزید پڑھیے

محبت مر نہیں سکتی

محبت مر نہیں سکتی حقیقت پھر حقیقت ہے حقیقت مر نہیں سکتی خداوند محبت کی شریعت مر نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی بہر سو جبر و استبداد چاہے سولیاں گاڑے اتر آئیں بلائیں ہاتھ میں زہراب لے لے کر فضا بارود بن کر بھی سلگ اٹھے تو کیا ہوگا یہ وہ جذبہ ہے جو ذروں کے سینے میں نمو پائے یہ وہ نغمہ ...

مزید پڑھیے

مرے پر نہ باندھو

پروں کو مرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو نہ کاٹو انہیں تم کہ مجھ کو بھی اڑنے دو اونچی اڑان میں تتلی ہوں ایسی کہ جس کے پروں سے چمکتی جھمکتی ہیں رنگوں کی موجیں یہ موجیں مری راہ کی مشعلیں بن گئی ہیں مٹائیں گی جو تیری میری تیرہ شبوں کی دھندلکے مٹائیں گی صبحوں کے میری پروں کو مرے تم نہ ...

مزید پڑھیے

کاوش بے سود

جب سارا منظر دیکھ چکے تو خوابوں میں کھو جانا کیا مرے من کا پنچھی پاگل ہے جو اب بھی رستہ دیکھتا ہے مرے دل کا بچہ ضدی بچہ آس لگائے جیتا ہے اس من کو میں سمجھاؤں کیا جو رستہ تیرا رستہ نہیں اب اس رستے پر جانا کیا جو منزل، منزل تیری نہیں اب اس کا کھوج لگانا کیا لیکن میرے دل کا بچہ ضدی ...

مزید پڑھیے

ایک ذاتی نظم

میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اس کو جس کی ماں مرتی اور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص؟ ہے اب بھی جیے جاتا ہے آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کے لیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اٹھاتا ہے تھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کے لیے دہلیز پر بیٹھا۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میں جلائے۔۔۔ دیدۂ بے ...

مزید پڑھیے

کہف القحط

پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تک اپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والی سر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائے آج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماں ایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہے اس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنے کھلونوں سے ...

مزید پڑھیے

اونچے درجے کا سیلاب

زمیں کا حسن سبزہ ہے مگر اب سبز پتے زرد ہو کر جھڑتے جاتے ہیں بہاریں دیر سے آتی ہیں جگنو ہے نہ تتلی ۔۔۔خوشبوؤں سے رنگ روٹھے ہیں جہاں جنگل ہوا کرتے تھے اور بارش دھنک لے کر اترتی تھی جہاں برسات میں کوئل، پپیہے چہچہاتے تھے وہاں اب خاک اڑتی ہے درختوں کی کمی سے آ گئی ہے دھوپ میں شدت فضا ...

مزید پڑھیے

تضاد

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ پہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 635 سے 960