شاعری

عفریت

وطن کی دھرتی سے دور جب وطن کے مارے برہنہ تن اور تہی شکم کی طلب کی شدت سے ہو کے مجبور جلتے صحرا کی وسعتوں میں مقید نار ہو گئے ہیں نہ طوق آہن نہ بیڑیاں ہیں نہ ہے سلاسل کا بوجھ تن پر جھلستے صحرا کی وسعتوں میں سروں پہ سورج کی چھتریاں ہیں بدن سے آب مشقت بے سکوں کی نہریں رواں دواں ہیں

مزید پڑھیے

بحث تو اپنی ہی نہیں

بحث تو اپنی ہے ہی نہیں طاقت والوں سے سارے دعوے ان کے الگ ہیں اپنی دلیلیں الگ سی ہیں وہ کہتے ہیں ان کا قہر قیامت بن کر کڑکے گا ہم کہتے ہیں موت کا کھیل ہمیں جی جان سے پیارا ہے اور اس کھیل کے ہوتے ہوئے بستی میں اجیارا ہے

مزید پڑھیے

خدا گواہ

خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافل تمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہے وہ شام غم بھی اسی طرح دل پہ قائم ہے وہ روز سخت بھی سینے میں درد بن کر ہے جب ایک حملۂ دل تم پہ ظلم کرتا تھا عظیم شہر کے مرکز میں اک اداس سا گھر علاج سے محروم تمہارے دکھ میں تڑپنے کو دیکھ کر چپ تھا تو سارے شاہی ...

مزید پڑھیے

جسم اور سایے

شہرت اور عزت کے زینے پر چڑھتے فن کار کا سایہ ذلت کے پاتال میں اترا جاتا ہے روتے شہروں دیہاتوں کو چھوڑ کے چوروں کی منڈلی سے مل کر اتراتے بل کھاتے ہو کبھی ذرا تاریخ کا آئینہ بھی دیکھو دیکھو تو کیا شرماتے ہو

مزید پڑھیے

شب کے سب اسرار تمہارے

طاقت ساری آپ کے بس میں ساری ذہانت آپ کی ہے ہم مجبور نہتے سارے پھر بھی ہمارے ساتھ ہیں سب تاریخ کے دھارے شب کے سب اسرار تمہارے صبح کا نور ہمارا ہے گم رستوں پر خون کے چھینٹے راہ دکھاتے تارے ہیں

مزید پڑھیے

سچ

میرے چاروں طرف دائرہ دائرہ اک فسوں حیات طرح دار ہے زندگی گامزن ہے اسی نہج پر سچ کی ترویج میں اور لٹکی ہوئی سر پہ تلوار ہے

مزید پڑھیے

صوت نادیدہ

نیند پلکوں کے سائباں میں نہیں طائر خواب کر گیا پرواز وادیٔ چشم کے افق سے پرے آنکھ محو تصورات حسین ایک ہلچل سی ذہن و دل میں مچی اور نظر اک مقام ٹکتی نہیں خوشبوؤں کے حصار گردش میں ہے سماعت کچھ اس قدر حساس آنکھ کی پتلیوں کے تھامے ہاتھ دوڑتی ہے ادھر سے اس جانب ایک لمحہ اسے قرار ...

مزید پڑھیے

امتحان

ہجوم رنج و الم کئی پیکروں میں ڈھل کر چہار جانب پہ چھا رہا ہے زمین آتش فشاں ہے اور آسمان سے بارش ستم ہے سمندروں میں غضب کے طوفاں سلگتے جلتے ہوئے کٹھن راستوں میں پتھر ہم ان کے نرغے میں استقامت سے چل رہے ہیں قدم قدم گر رہے ہیں گر کر سنبھل رہے ہیں یہ اس کی چاہت کی آزمائش ہے اور بے لوث و ...

مزید پڑھیے

شام سے پہلے گھر آ جانا

ہر دن میں وعدہ کرتا ہوں شام سے پہلے گھر آؤں گا ہر دن کوئی نہ کوئی مشکل کوئی نہ کوئی کام ضروری ہے پتھر بن کر میرے کانچ کے وعدے سارے چشم زدن میں کر دیتا ہے ریزہ ریزہ وعدہ کرتے وقت ہمیشہ میں یہ سوچوں اس کی محبت سارے کاموں سے افضل ہے وہ کہ مری غم خوار ہر اک لمحہ ہر پل ہے کام مگر جب سامنے ...

مزید پڑھیے

جشن نوشین

گھروں سے بچو نکل آؤ گر رہی ہے برف بجاؤ تالیاں اور گاؤ گر رہی ہے برف فلک سے فرش زمیں پر برس رہا ہے نور چھتوں پہ کھیتوں پہ شاخوں پہ بس رہا ہے نور چمن ہے نور کی اک ناؤ گر رہی ہے برف فضا میں چاروں طرف سرمئی اجالا ہے تھی بوند پانی کی اب روئی کا جو گالا ہے دلوں کو شوق سے گرماؤ گر رہی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 63 سے 960