شاعری

ایک درخت ایک تاریخ

جیسے جھک کر اس نے سرگوشی میں مجھ سے یہ کہا وہ دیار غرب ہو کہ گلستان شرق ہو ظلم کے موسم میں بوئے گل سے کھلتے ہیں گلاب جستجو کی منزلوں میں خواب کی مشعل لیے ڈالیوں پر آ کے گرتے ہیں تھکے ماندے پرند آشیاں بندی میں رنگ و نسل کی تمییز کیا تفریق کیا جابرؔ و مجبور کی دنیا الگ عقبیٰ الگ

مزید پڑھیے

تشویش

مجھ کو تشویش ہے کچھ روز سے میرے محبوب میرے انداز تفکر کی یہ پر خار روش تیری حساس طبیعت کو نہ کر دے مجروح اور تو سمجھے کہ نہیں تجھ میں وہ پہلی سی کشش اب بھی جلووں میں ہے تخلیق محبت کی سکت تری باتوں میں ابھی تک ہے فسوں کا انداز عارض و لب پہ تبسم کا خرام مدہوش اب بھی دیتا ہے تخیل کو ...

مزید پڑھیے

ندائے تخلیق

سکوت نیم شبی میں کسی نے دی آواز نعیمؔ دل سے نکالو نہ خار ہائے خلش سکون ہے تو اسی اضطراب میں کچھ ہے گزار شوق میں، سوز تلاش میں کچھ ہے جنوں کے جملہ مراحل سے تم گزر دیکھو جمال فکر سے آباد ہے دل ویراں شرار دل سے منور جہان فردا ہے یہ کون مجھ سے مخاطب ہے اتنی قربت سے یہ کس نے زخم کو دست ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

سیرالیون کے سمگلرز ہیروں کی سمگلنگ پر باتیں کر رہے ہیں شمالی بلغاریہ کے علاقوں سے عمدہ قسم کا تمباکو آنے والا ہے لائٹ ٹاور کی سیڑھیوں کے نیچے جینز کی نیکر میں کوکین کی تھیلیاں چھپا کر میڈونا واپس جا چکی ہے بوڑھا لینوس بیٹھا ہے فوگ لائٹ کی پیلی روشنی میں لمحہ داڑھی کھجا رہا ...

مزید پڑھیے

دسمبر کی رات

آہنی درختوں سے سر پٹکتی ہوئی وہ ایک رات سیہ شبدوں سے ٹپکتی ہوئی دوشیزگی کے احساس سے بے نیاز کالے خون میں نہائی کنواری بیوہ کی مانند پیک دان کے جھاگ میں لت پت پڑی رہی جس کے نحیف گھٹنوں سے چپکے شکستہ سانسوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تلخ اداسیوں کے میل کی دراڑوں پر کندہ سفر کی الجھنوں کے ...

مزید پڑھیے

رفتگاں

یہیں کچھ لوگ رہتے تھے کہ جن کے دھول مٹی سے اٹے جسموں کی خوشبو اب ہمارے دل کی دھڑکن ہے جو دکھ کی راکھ کو اپنے لہو کی آنچ دے کر زمانے میں مسرت کی توانائی لٹاتے تھے جو لوگوں بیکسوں نادار انسانوں کی خاطر اپنی خوشیاں بھول جاتے ہیں یہی وہ لوگ تھے وہ دل ربا انساں جو انسانوں سے بڑھ کر خوب ...

مزید پڑھیے

تاریخ کی عدالت

ہمارے ادراک کی صداقت تمہارے الزام کی نجابت کبھی تو تاریخ کی عدالت میں پیش ہوگی حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحے تمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانی لہو فروشی کے کل دلائل دفاتر منصفی پر تحریر کر رہے ہیں کبھی تو تاریخ کی عدالت میں تم بھی آؤ گے ہم بھی آئیں گے تم اپنے سارے ...

مزید پڑھیے

تیسری آنکھ

تو پھر یوں ہوا ہم شکستہ دلوں نے سپر ڈال دی جتنے ناوک بدست اپنے احباب کوہ وفا پر کھڑے تھے ہمیں ان سبھی کی جگر داریوں بے غرض جرأتوں پر مکمل یقیں تھا مگر جاں نثاری کے اس معرکے میں صف ہم رہاں کو پلٹ کر جو دیکھا تو کوئی نہیں تھا سبھی نرغۂ دشمناں میں کھڑے تھے ہجوم کشیدہ سراں پا بہ زنجیر ...

مزید پڑھیے

تسلسل

ایک ہی بستر پر لیٹے ہوئے کبھی کبھار دو جسموں کے درمیان چند شکنوں کا فاصلہ صدیوں پر پھیل جاتا ہے اس لمحے کے پیکار میں باہم پیوست دو جسموں سے پیدا ہونے والا تیسرا بدن ساری عمر فراق کی گھڑیاں گنتے گنتے آخر اسی زنجیرے میں ایک نئی کڑی کا اضافہ بن جاتا ہے اور پھر وہی عمل پھر وہی ...

مزید پڑھیے

شاعری پورا مرد اور پوری عورت مانگتی ہے

تم جو لفظوں کے گورکھ دھندے میں الجھے بے رس شاعری کرتے ہو لغت سے لفظ اٹھاتے ہو اور دائیں بائیں ان کو چبا کر شعر اگلتے رہتے تم کو کیا معلوم کہ کیا ہے عشق اور اس کی حقیقت کیا ہے پیار ہے کیا اور چاہت کیا ہے تم نے کسی کے ہجر میں کب راتیں کاٹی ہیں...؟ کب تم وصل کے نشے سے سرشار ہوئے ہو تم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 616 سے 960