شاعری

میدان

خیال شیطان کی آنت کی طرح عمودی دوری کے میدان میں کھڑا ہے دوستوں کے حج کا زمانہ ان کے گرد طواف کرتا رہتا ہے بہتے پانی میں ہاتھ ڈبو کر تمہیں چھو لیتا ہوں شیشم کے پیڑ پہ فاختہ بولتی رہتی ہے میرے پاس صرف میرا راستہ ہے جس سے میں انجان ہوں دھوپ کے کھیل میں سایوں سے نہیں الجھنا چاہئے

مزید پڑھیے

جواب

سورج نے جاتے جاتے بڑی تمکنت کے ساتھ ظلمت میں ڈوبتی ہوئی دنیا پہ کی نظر کہنے لگا کہ کون ہے اب اس کا پاسباں میرے سوا ہے کون زمانے کا راہبر میں تھا تو اپنی راہ پہ تھی گامزن حیات اب میں نہیں رہوں گا تو یہ ساری کائنات ظلمات میں بھٹکتی پھرے گی تمام رات سورج یہ کہہ کے جا ہی رہا تھا کہ اک ...

مزید پڑھیے

نسبت خاک

زمیں سے کیوں نہ مجھے پیار ہو کہ میرا وجود ازل سے تا بہ ابد خاک سے عبارت ہے مرا خیال مرے خواب میری فکر و نظر جسد سے تا بہ لحد خاک سے عبارت ہے وہ مشت خاک جسے نور نے کیا سجدہ خرد کے نت نئے سانچوں میں ڈھل رہی ہے آج وہ آگ جس نے کیا انحراف عظمت خاک خود اپنی ذات کے دوزخ میں جل رہی ہے آج میں ...

مزید پڑھیے

ہارون کی آواز

دیکھو ابھی ہے وادیٔ کنعاں نگاہ میں تازہ ہر ایک نقش کف پا ہے راہ میں یعقوب بے بصر سہی یوسف کی چاہ میں لہرا رہا ہے آج بھی طرہ کلاہ میں یہ طرہ گر گیا تو الٹ جائے گی زمیں محور سے اپنے اور بھی ہٹ جائے گی زمیں تاریخ کے سفر میں غلط بھی قدم اٹھے گاہے لباس فقر میں اہل حشم اٹھے گاہے صنم تراش ...

مزید پڑھیے

حریف وصال

عجیب شب تھی جو ایک پل میں سمٹ گئی تھی عجیب پل تھا جو سال ہا سال کی مسافت پہ پرفشاں تھا اور اس کے سائے میں ایک موسم ٹھہر گیا تھا (کسی کے دل میں تھا کیا کسی کو خبر نہیں تھی) بس ایک عالم سپردگی کا بس ایک دریائے تشنگی تھا کہ جس کی موجیں امڈ امڈ کر بکھر رہی تھیں کھلے سمندر میں ڈوب جانے کی ...

مزید پڑھیے

ان کہی

تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش میری تخئیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں تیری زلفیں تری آنکھیں ترے عارض ترے ہونٹ کیسی ان جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائے وہ چھلکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ید بیضا

مری ہتھیلی کے سانپ کب تک ڈسیں گے مجھ کو مری ہتھیلی کے سانپ جو اب مری رگوں میں اتر چکے ہیں بدن کو زنجیر کر چکے ہیں میں خواب دیکھوں تو کوئی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دے قدم اٹھاؤں تو کوئی میرے قدم پکڑے پلٹ کے دیکھوں تو کوئی پیچھے نہ کوئی آگے بس ایک سایہ مری حقیقت کا اک کنایہ مری حقیقت کہ ...

مزید پڑھیے

آئینہ در آئینہ

اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھا الفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھا اک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھی اک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھا اک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیں اک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ تھا میں نے کہا کہ یار تمہیں کیا ہوا ہے یہ اس نے کہا کہ عمر رواں کی عطا ...

مزید پڑھیے

تضاد

میں سوچتا ہوں میں ایک انسان ہوں ایک مشت غبار ہوں میں ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک آواز سرسرائی فضا کی خاموش وسعتوں میں پلٹ کے دیکھا کوئی ہوائی جہاز پرواز کر رہا تھا جو لمحہ لمحہ بلندیوں کی طرف رواں تھا میں اس کو تکتا رہا مسلسل نہ جانے کب تک نہ جانے اس لمحۂ گریزاں کے تنگ ...

مزید پڑھیے

تناسخ

جب ایک سورج غروب ہوتا ہے کم نظر لوگ یہ سمجھتے ہیں اب اندھیرا زمیں کی تقدیر ہو گیا ہے زمانہ زنجیر ہو گیا ہے انہیں خبر کیا کہ مہر و ماہ و نجوم سارے تو روشنی کے ہیں استعارے طلوع کا دل فروز منظر غروب کا دل شکن نظارہ ازل سے اس روشنی کا پرتو ہے جو مسلسل سفر کے عالم میں ہر مکاں لا مکاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 608 سے 960