شاعری

سڑک

سڑک مسافت کی عجلتوں میں گھرے ہوئے سب مسافروں کو بہ‌ غور فرصت سے دیکھتی ہے کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہے کسی کی آنکھیں ہری بھری ہیں کبیر حد سے ابھر رہا ہے صغیر قد سے گزر رہا ہے کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہے کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا ...

مزید پڑھیے

خبر کا رخ

ٹی وی پر اک خبر چلی ہے شہر کی جانب بڑھنے والے سیلابی ریلے کا رخ گاؤں کی جانب موڑ دیا ہے گاؤں میں بیٹھے اک دیہاتی نے غصے میں اپنا ٹی وی توڑ دیا ہے

مزید پڑھیے

کالا

کالا حد سے بھی کالا تھا اتنا کالا جتنی تیری سوچ اتنا کالا جتنی تیرے دل کی کالک کون تھا کالا کالا کالا سوچتا جاتا کھرچ کھرچ کر نوچتا جاتا اپنا ہونا کھوجتا جاتا جملوں کی بدبو کے اندر اپنی خوشبو سونگھتا جاتا اپنی سگریٹ پھونکتا جاتا کالے کی سگریٹ بھی کالی کالے کا گردہ بھی کالا کالے ...

مزید پڑھیے

اعتراف

حقیقی دشمنی کو دوستی کے مکر پر ور پیرہن پر خواہ اس میں فائدہ ہی کیوں نہ ہو ترجیح دیتا ہوں کہ میری تربیت میں یا مرے ماحول میں یا پھر جبلت میں یہی خامی وہ خامی ہے جو وجہ تشنہ کامی ہے کہ میں سر کے عوض بھی سچ سے رو گرداں نہیں ہوتا کبھی لالچ میں آ کر جھوٹ کا مہماں نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

انکشاف

تتلیوں کے پاؤں میں پھول پھول زنجیریں خوشبوؤں کی بستی میں خواب خواب تعبیریں ہے بس ایک ہی خواہش راگ رنگ دنیا میں دل کی تنگ دنیا میں لکھ سکوں کبھی میں بھی رات کے صحیفے پر چاندنی کی تحریریں آخری مناجاتیں آسمان کی باتیں کچھ بھی ہو نہیں سکتا آج اپنی مرضی سے تو بھی ہنس نہیں سکتا میں بھی ...

مزید پڑھیے

بے وفا کیسے بنوں

خلوت غم کے دریچوں پہ یہ دستک کیسی اے مری فخر وفا رشک چمن جان حیا دامن چشم میں ہے نامۂ الفت جب سے دل کا ہر سویا ہوا زخم مرا جاگ اٹھا جاں سپاری کی ادا مجھ کو سکھانے والے آج یہ حکم کہ میں پیار کا چرچا نہ کروں گھٹ کے رہ جاؤں پہ رخسار تری یادوں کے اپنی تخیل کی آنکھوں سے بھی چوما نہ ...

مزید پڑھیے

تو خفا ہو تو بہت دور کہیں

راستے گرد میں اٹتے ہوئے راہی سے بچھڑ جاتے ہیں خون روتی ہوئی آنکھوں میں کہیں شام اتر جاتی ہے آسماں کے سبھی جھلمل سے منور تارے راکھ بن کر کسی تاریک سمندر میں بھٹک جاتے ہیں پھول جو شاخ کی زینت تھے بکھر جاتے ہیں اجنبی دیس میں پھر دور بہت دور کہیں ایک ہنستا سا منور چہرہ کیسی تاریک ...

مزید پڑھیے

کاسنی

کاسنی دوپٹے کے ان سنہرے پھولوں پر تم نے ہاتھ کیا رکھا اس کے بعد دنیا نے جب بھی مڑ کے دیکھا تو اس نگر کی وہ لڑکی روشنی لپیٹے بس چاندنی نظر آئی کاسنی نظر آئی

مزید پڑھیے

موسیٰ کی تلاش

اپنے چہروں پہ صحرا کے رقصاں بگولے لیے اپنے لب کو سیے اپنی آنکھوں میں محرومیوں کو سمیٹے ہوئے اپنی پلکوں کی سہمی ہوئی چلمنوں میں چیختی تشنگی کو چھپائے زندگی تیری یہ زندہ لاشیں رینگتی پھر رہی ہیں در بہ در کوچہ کوچہ گلی در گلی از افق تا افق کوئی عیسیٰ نفس کوئی شنکر صفت ان کے چہروں پہ ...

مزید پڑھیے

ست رنگی قوس قزح کے نام

میں کہ اک جنت ارضی سے چلا آیا ہوں بیتی یادوں کی مہک دل میں چھپا لایا ہوں جس جگہ کوثر و تسنیم کی نہریں تھیں رواں جس جگہ اپنی تمناؤں کی دنیا تھی جواں نور ایمن تھا ثریا کی نگاہوں میں جہاں شاخ نسرین تھی فرحین کی بانہوں میں جہاں جس جگہ فرحت و نزہت کی ہوا چلتی تھی بن کے تزئین در و بام صبا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 595 سے 960