شاعری

سپنے

آخر کب تک تم سپنوں کے شیش محل میں رنگ برنگی قوس قزح سی یادوں کی ایک چادر تانے سوئے رہو گے کھوئے رہو گے ایک ذرا یہ بھی تو سوچو کل کوئی شریر سا بچہ سپنوں کے اس شیش محل پر کھیل ہی کھیل میں بس اک پتھر دے مارے تو پھر کیا ہوگا آنکھیں کھولو سپنے تو آخر سپنے ہیں ان کا کیا ہے ماضی کے بیتے ...

مزید پڑھیے

راکھی بندھن

زندگی کے کئی معیار ہیں ورق ورق اک رخ احساس کو فطری اور مصنوعی سطح پر بانٹنا اپنے اور پرائے کو دو دائروں میں تقسیم کرنا یا بارود کے دھماکوں میں زمین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا زندگی برائے زندگی کو ماننے والے وقت کا کہرا چھٹتے ہی آستھا کے عکس پھیلا دیتے ہیں پاگل خیال کی شدت گھٹ جاتی ہے اس ...

مزید پڑھیے

ناکامی

بند آنکھیں کیے سر ساحل کل سحر دم یہ سوچتا تھا میں نیند کی گود میں زمانہ ہے، بیڑیاں توڑ دوں، نکل جاؤں وادیٔ ہو میں جا کے کھو جاؤں دفعتاً ایک موج نے بڑھ کر اپنا سر میرے پاؤں پر رکھا اور کہا دیکھ چشم دل سے دیکھ نیلگوں بحر کتنا دل کش ہے ہے زمیں کس قدر حسین و جمیل آسماں کتنا خوبصورت ...

مزید پڑھیے

ویرانۂ خیال

دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجوم بے خبر ماحول سے چپ چاپ خود سے ہم کلام چل رہا ہے سر جھکائے اس طرح جس طرح مرگھٹ پہ روحوں کا خرام زرد چہروں پر ہے صدیوں کی تھکن سانس لیتے ہیں کچھ ایسے جیسے ہوتی ہو چبھن ہونٹ پر غمگیں تبسم اور سینے میں بکا ہر قدم پر ہڈیوں کے کڑکڑانے کی صدا ان کی ...

مزید پڑھیے

احساس

میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھن ہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹن کوئی شعلہ نہ کرن سرد ہونے کو ہے دل کی دھڑکن تک رہی ہے مجھے کس حسرت سے میرے بستر کی ہر اک درد سے بھرپور شکن ڈس نہ لے دل کو یہ تنہائی کے احساس کی کالی ناگن اے مرے خواب کی دلکش پریو گنگناتی ہوئی زلفوں کی ...

مزید پڑھیے

تصور

اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پر سڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگ آنکھوں کے کٹورے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور شاخ گل کی طرح لچکتی مہکتی لڑکیاں حسن کی خیرات بانٹتی پھرتی ہیں خوبصورت تنو مند بچے پھولوں کی طرح مسکراتے ایک ہاتھ میں کھلونے ایک ہاتھ میں ماں کی انگلی پکڑے ہنستے کھیلتے ...

مزید پڑھیے

شوق

شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرف لوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدم بارہ گھنٹوں کی مشقت اور تھکن بڑھ کے لے لیتی ہے مجھ کو گود میں اور سیل تیرگی میں ڈوب جاتی ہے امید و شوق کی اک اک کرن رہ گزار آرزو پر چار سو اڑتی ہے دھول اور اک آواز آتی ہے کہیں سے جو کہ انجانی بھی پہچانی بھی ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

حاصل

وہ لمحہ وہ پر شوق و پرسوز لمحہ جو ہم راہ تیرے گزارا تھا میں نے وہی زندگی تھا اور اب یہ جو مدت سے ہے آمد و شد نفس کی اسی ایک لمحہ کی قیمت ہے شاید

مزید پڑھیے

دنیا

دنیا ایک کنواری ماں ہے ہم سب ہیں ناجائز بچے جو اپنے نادیدہ پدر کی حرص و گنہ کے پچھتاوے کو اپنے اپنے کندھے پر لادے پھرتے ہیں مرنے کی دھن میں جیتے ہیں

مزید پڑھیے

آپ بیتی

زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑ تنہا پشیماں ہراساں ہراساں امید و محبت کی اک جوت آنکھوں میں اپنی جگائے ہر اک راہرو کی طرف دیکھتی ہے کہ ان میں ہی شاید کوئی میرے گلے کا بھی پاسباں ہو مگر اس بیاباں میں شاید سراب اور پرچھائیوں کے سوا کچھ نہیں ہے مجھے کون سینے سے اپنے لگائے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 596 سے 960