مسجد احمریں
میں مسجد احمریں کے دامن پہ ثبت پتھر نواح حیرت کدہ طلسمات عافیت تھا نہ میرا فکر و نظر سے رشتہ نہ میرا ایہام گوئی شیوہ فقط میں شاہد عبادتوں سے چمکتے لمحوں کی داستاں کا درون مسجد کھڑے منارے اذان دیتے تو وادیٔ عشق سے طلوع نماز ہوتی امام اور مقتدی سفیران اہل ایماں حضور یابی کی ندرتوں ...