شاعری

بانجھ سی لگنے لگی ہے

واپسی پر رات کے کالے سیہ جھولے میں لیٹے اس نے سوچا تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح ہنستی گنگناتی زندگی سے انس کی دہلیز پر جا کر ملے گا پوچھے گا اس سے کرن سورج کی کیسے چومتی ہے پھول کو اور جگمگا دیتی ہے مٹی دھول کو ٹھنڈی ہوا کیا ہے گھٹا کیا ہے پرندے چہچہاتے کس ادا سے ہیں مگر کچھ بھی ہوا ...

مزید پڑھیے

دکان

نیم کے سائے میں ایک کھردرے فٹ پاتھ پر لہکتے سورج سے پرے شکستہ چوبی گاڑی کی زمیں پہ ٹیڑھے میڑھے ہاتھ پاؤں میں الجھتی حیات غمزدہ آنکھوں کے درد لب پہ اک خاموش کرب منہ سے کچھ بہتے لعاب اپنی جانب کھینچتے ہیں بولتے سکوں کے ڈھیر

مزید پڑھیے

سرشت آدم

بہت ہی تیز بارش ہے ہوا بھی کچھ اس طوفانی مسلسل آسماں کئی گھنٹے سے یکساں برستا جا رہا ہے اور مری کھڑکی پہ بیٹھا ایک کوا پنکھ سے ٹپکاتا پانی آسماں کی نقل کرتا جا رہا ہے اور اس سے کچھ پرے چھپر پہ کوئی آدمی زادہ چھپائے سر کو پولی تھین سے اپنا چھپاتا سر وہ چھپر کا بھی پولی تھین ...

مزید پڑھیے

نہ اک پتے کو رو بابا

شفق جب پھول کر رنگ حنا تھی اور ہوا کے لب سلے تھے ایک بوڑھا پیڑ برگد کا کھڑا گنگا کنارے دل گرفتہ خود سے محو گفتگو تھا ''وہ مری اک شاخ کا پتہ مرے ہی جسم کا حصہ گرا گر کر ستارا ہو گیا پانی کا پیارا ہو گیا مجھ سے کنارہ ہو گیا'' وہیں سرگوشیوں میں اک پتنگا گنگنایا کان میں اس کے ''نراشا تم ...

مزید پڑھیے

آج

خواب کی سیڑھیاں لمحہ لمحہ اترتا ہوا اور چڑھتا ہوا دھوپ بادل میں لوٹیں لگاتا ہوا پھول سے خار سے وہ گزرتا ہوا آرزو کی تھکن تشنگی کی شکن دل پہ مجمع کیے آج آنگن کے تاریک گوشے میں انبار پر کوڑے کے زنگ آلود اک قفل سا رہ گیا ہے کلید وفا سے نہیں جس کا کوئی بھی ناتا

مزید پڑھیے

فنا کا علاقہ

بہت نرم و نازک حسیں پنکھ والی پریشان تتلی کبھی پتے چھو کر کبھی چوم کر پھول راہ بقا ڈھونڈنے میں لگی تھی کرن آفتابی تھی دیتی دلاسا ہوا بھی تھپکتی تھی شفقت سے اس کو کہ اتنے میں انسان زادہ کوئی چپکے سے اپنی چٹکی میں لے کر بڑے پیار سے اس حسیں پنکھ والی پریشان تتلی کو دکھلا گیا ہے فنا ...

مزید پڑھیے

طعنے

کل شب میں شہر عشق سے لوٹا جو اپنے گھر دروازے طعنے کسنے لگا میرے حال پر بولا دریچہ کیسے اکیلے ادھر جناب کیوں اور کہاں پہ چھوٹ گیا ہم سفر جناب چپ جو ہوا دریچہ تو گونجی صدائے بام اب کر سکو گے سائے تلے میرے تم قیام دیوار بولی کرکے مخاطب تمام کو محتاج ہو گیا ہے بیچارہ کلام کو اک ہو ...

مزید پڑھیے

جام جم کے ساتھ

کاٹی ہے عمر ابروئے تیغ دو دم کے ساتھ میں اس کے دم کے ساتھ ہوں وہ میرے دم کے ساتھ دشت جنوں سمٹ کے کف پا سے جا ملا منزل لپٹ کے رہ گئی نقش قدم کے ساتھ آوارہ گردی فاقہ کشی فکر روزگار یہ سب بلائیں لپٹی ہیں عاشق کے دم کے ساتھ افیوں کا دور بھی ہے مے ارغواں کے بعد جام سفال ہاتھ میں ہے جام جم ...

مزید پڑھیے

تپش عشق یا تیر کی گرمی

جس کسی نے ان دنوں کوئی دوا ایجاد کی بس یہ سمجھو اس نے اک بستی نئی آباد کی پھوڑ کر سر جیل میں بے چارہ مجنوں مر گیا اور صدائیں ہر طرف ہیں یار زندہ باد کی کیا بتاؤں اے طبیبو عشق کی تم کو تپش بس سمجھ لو جیسے گرمی تیر اور خورداد کی لیجئے آئے ہیں مجنوں مجھ کو دینے درس عشق آپ کی صورت تو ...

مزید پڑھیے

گاندھی کے بعد

بعد گاندھی کے نہ سن ہم نے سماں دیکھا کیا فصل گل آتے ہی ہر باغ و چمن اجڑا کیا دل ہی افسردہ ہو جب پیشکش صہبا کیا آنکھ ہی جب نہ رہے دعوت نظارہ کیا زندگی موت سے بد تر ہو تو پھر جینا کیا بھوک سے دامن ہستی کو سیے جاتے ہیں زندگی چھین کے اوروں کے جیے جاتے ہیں ہر نفس عہد وفاؤں کے لیے جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 578 سے 960