بانجھ سی لگنے لگی ہے
واپسی پر رات کے کالے سیہ جھولے میں لیٹے اس نے سوچا تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح ہنستی گنگناتی زندگی سے انس کی دہلیز پر جا کر ملے گا پوچھے گا اس سے کرن سورج کی کیسے چومتی ہے پھول کو اور جگمگا دیتی ہے مٹی دھول کو ٹھنڈی ہوا کیا ہے گھٹا کیا ہے پرندے چہچہاتے کس ادا سے ہیں مگر کچھ بھی ہوا ...