شاعری

دلی پہ قربان

بہار بے خزاں دلی پہ قرباں نشاط جاوداں دلی پہ قرباں شمیم گلستاں دلی پہ قرباں زمین و آسماں دلی پہ قرباں مرا دل میری جاں دلی پہ قرباں یہاں ہر خار سرو و یاسمن ہے یہاں ہر جادہ آغوش چمن ہے یہاں ہر ذرہ صورت کی کرن ہے نجوم و کہکشاں دلی پہ قرباں مرا دل میری جاں دلی پہ قرباں مہکتی ...

مزید پڑھیے

عورت کی تخلیق

غنچہ و گل کی نکہت چرائی گئی بجلیوں کی حرارت چرائی گئی گلستاں کی ہواؤں کو دھنکا گیا بلبلوں کی صداؤں کو دھنکا گیا برف کو برق پاروں کو پیسا گیا ابر کو چاند تاروں کو پیسا گیا کہسار و گلستاں تراشے گئے لعل و یاقوت و مرجاں تراشے گئے چاندنی رات کا حسن چھینا گیا کہکشاں کے پیالے میں ...

مزید پڑھیے

نعرۂ اردو

میرے ہر لفظ میں ہے کوثر و گنگا کا لہو ادب و فن ہی ہیں بکھرے ہوئے میرے گیسو چمن شرق میں رقصندہ ہیں میری خوشبو دولت علم سے آباد ہے میرا پہلو خون دل سے در شہوار کئے ہیں پیدا میں نے ہر عہد میں فن کار کیے ہیں پیدا میری زلفوں کو ولیؔ نے بھی سنوارا تھا کبھی مجھ کو حالیؔ نے محبت سے پکارا ...

مزید پڑھیے

دلی میں ہیں

آہ کیا کیا آج کل رنگینیاں دہلی میں ہیں راستوں پر چلتی پھرتی بجلیاں دہلی میں ہیں خلد کی حوریں بھی شرماتی ہیں جن کے حسن سے آج کل ان مہ وشوں کے کارواں دہلی میں ہیں ہلکے پھلکے آنچلوں میں نوجوانی کا ابھار رقص کرتے گنگناتے گلستاں دہلی میں ہیں آدمی کیا ہیں فرشتے بھی جنہیں سجدہ ...

مزید پڑھیے

برسات کا موسم

اے حور جناں جان چمن روح نظارہ اے پیکر انوار و دل آویز دل آرا وہ یاد ہے دزدیدہ نگاہوں کا اشارہ قرباں تیری آنکھوں پہ سمرقند و بخارا کٹتا نہیں پردیس میں برسات کا موسم اے نازش کونین ستم کیش و ستم گار اے خون رگ ابر رواں جان چمن زار اے ساز محبت کی مچلتی ہوئی جھنکار میرا کوئی ساتھی ہے ...

مزید پڑھیے

طوائف

اجنبی ڈال نہ یوں مجھ پر حقارت کی نظر میں تری چاہنے والی ہوں ذرا دیر ٹھہر شوق نظارہ اگر ہے تو ہر اک رہ سے گزر آ تجھے اپنی نگاہوں سے پلا دوں ساغر چند سکوں پہ ہوا کرتا ہے ہر شب کو نثار میرے سینے کا گداز اور جوانی کی بہار جتنا ناپاک ہے تن اتنا مرا من تو نہیں کیوں ٹھٹھکتا ہے جھجکتا ہے ...

مزید پڑھیے

اے عروس بمبئی

اے عروس بمبئی صد حیف پیروں کا شکار قافلے پیروں کے بیٹھے ہیں قطار اندر قطار ہر گلی کی موڑ پر اک پیر ہے بیٹھا ہوا پوچھتا ہے جس سے ہر اک زندگی کا راستہ مسجدوں میں بت کدوں میں اور مے خانوں میں پیر کوہ میں گلزار میں بستی میں ویرانوں میں پیر جس طرف نظریں اٹھیں پیروں کا اک سیلاب ...

مزید پڑھیے

شیشے کا کرب

ابھی تو میں شفاف شیشہ ہوں معصوم ہوں بے ریا ہوں کوئی رنگ مجھ میں نہیں ہے کوئی روپ میرا نہیں ہے کرن جو بھی آئے گی میرے بدن تک مرے پار ہو جائے گی بے محابا کوئی رنگ اپنا میں اس کو نہ دوں گا ابھی تو میں بے رنگ و بے روپ ہوں بے ریا ہوں ابھی دکھ سہوں گا لہو زندگی کا میں بھروں گا شراروں سے کچھ ...

مزید پڑھیے

انتظار

چہرے پہ دید بان تھے ہونٹوں پہ کچھ سراب سانسوں میں احتجاج تھا نبضوں میں انقلاب دل جیسے سونی شام کا سورج بجھا بجھا اور جسم جیسے تیر کماں پر چڑھا ہوا اعصاب کے تناؤ سے بجتا تھا انگ انگ ہر رنگ آرزو میں ملا تھا لہو کا رنگ سوچوں پہ بادبان تنے تھے غبار کے پنچم کے سر پہ تار چڑھے تھے ستار ...

مزید پڑھیے

میں

ایک خلیہ ہوں میں زندگی کی اکائی ہوں میں ٹوٹ کر بن رہا ہوں ازل سے یوں ہی میں عناصر کی ترتیب ہوں میں شعور و نظر کی وہ بنیاد ہوں جس پہ قائم ریاضی کے ٹیڑھے ستوں جس کی شاخیں ہیں ادوار کے فلسفے جو ادب آرٹ سنگیت کی روح ہیں ایک ذرہ ہوں میں ٹوٹ کر بن رہا ہوں ازل سے یوں ہی میرے ہر ریزۂ مختصر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 579 سے 960