شاعری

لفظوں کی تجارت

وسیع جنگل ہے ایک جانب پہاڑوں کا سلسلہ چلا ہے شام آہستگی سے پیڑوں پہ کہنیاں ٹیکتی ہے سورج کرن کرن اپنی روشنی رہن رکھ کے غربی دیار فلک سے بادلوں کا لحاف لے کر یک شبی نیند کے تصور میں اونگھتا ہے خزاں رسیدہ انار کا اک شجر کھڑا ہے میں جس کے نیچے عہد و پیماں کے لعل یاقوت اظہار و اقرار ...

مزید پڑھیے

تلسی داس

یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے نہایت ہی قدیم جب کبھی مذہب کی حالت ہوتی ہے زار و سقیم قادر مطلق جو ہے دانائے اسرار و کریم بھیجتا ہے رہنمائی کے لیے اپنا ندیم رہبران راہ حق جب رہبری فرماتے ہیں بھولے بھٹکے سب مسافر راہ پر آ جاتے ہیں اک زمانہ تھا کہ غارت ہو رہے تھے اہل ہند اپنا مذہب اپنے ...

مزید پڑھیے

بصارت

تمہارے لمس کی خوشبو نے صندل کر دیا ہے کہ میں پاگل تھی تم نے اور پاگل کر دیا ہے تمازت ہجر کی پھر سے بدن جھلسا رہی تھی تمہاری یاد کو پھر ہم نے بادل کر دیا ہے ہمارے واسطے آساں نہیں تھا پھر بھی ہم نے تمہیں لپٹا کے تم کو اپنا آنچل کر دیا ہے مقدر کی سیاہی آج کچھ تو کام آئی سجا کے آنکھ میں ...

مزید پڑھیے

آج کی عورت

مجھے دیکھو مجھے سوچو مجھے سمجھو مری بے باک نظروں کی تہوں میں کوئی مجبوری نہیں ہے مرا ادراک ہے جو مجھ کو میرے خیر پہ ہونے کی مسند پر بٹھاتا ہے مجھے یہ علم ہے کہ میں اجالوں کی طرح سے پھیل جاتی ہوں حقیقت روز روشن ہے جہاں ہر اک چمکتی ریت پانی بن نہیں سکتی حقیقت اپنی فطرت میں کہانی بن ...

مزید پڑھیے

اداس ہو جاتا ہوں

میرے غم میں شریک ہونے اور مجھے دلاسہ دینے کو کئی دنوں سے مرے عزیز و آشنا چلے آتے ہیں وہ گلو گیر آوازوں اور بھیگی پلکوں سے اپنے غم کا جب اظہار کرتے ہیں تو میں بھی چہرے پر اک مکھوٹا چڑھا لیتا ہوں ان کی دل جوئی کی خاطر لمحہ بھر کو اداس ہو جاتا ہوں

مزید پڑھیے

غارت تماشا ہو گیا

مجھ کو وہ کتا صبا قدموں اچھلتا مخملی سبزے پہ تحفہ حسن مطلق کا بنا دلکش لگا تھا لمبے بالوں روئی کے گالوں کو پہنے جسم اس کا گیند سا لگنے لگا تھا اک گلابی نرم انگلی نرم پٹا ہلکی سی زنجیر وہ کتا بہت اچھا لگا تھا ہاں مگر وہ گیند سا کتا اچھلتا بھی اچانک ایک پتھر کے سرے پر سونگھتا کچھ رک ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی کھڑکی

مختصر کمرے کی ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی کبھی دیکھتی ہے جو باہر کی دنیا اداسی بہت بڑھ جاتی ہے اس کی مگر سامنے کے ہرے لان کے پھول چمپا چمیلی گلاب اور بیلا کی پوشاک پہنے ہوئے مسکراتے ہوئے رنگ و خوشبو کے لہجے میں اس کو سناتے ہیں معصوم لمحوں کا قصہ ہتھیلی پہ پھر انہی معصوم لمحوں ...

مزید پڑھیے

آج پھر مجھ سے

آج پھر مجھ سے مرا کمرہ مخاطب ہے دراڑیں وہ کبھی چھت کی دکھاتا ہے کبھی دیوار میں پڑتے شگافوں کو نشاں جھلسے ہوئے رنگوں کا مجھ کو مبتلا کر دیتا ہے ہیبت میں مکڑی کے سبک جالے ہوا کے دوش پر لہرانے لگتے ہیں زوال زندگی کا وہ پتہ بھی دینے لگتے ہیں زمیں کمرے کی بوسیدہ کہانی جب سناتی ...

مزید پڑھیے

موت

وہ تبسم کی سڑک پر تھامے جس کی انگلیاں محو سفر تھا کل تلک روشن محبت کی اسی پہچان کو درگور کر دینے سے پہلے غم سمیٹے نرم کاندھے پر کسی لب ریز بادل کی طرح رونے لگا تھا پھوٹ کر بے چارگی آشفتگی درماندگی سے واسطہ تھا ہر طرف اس کو مگر یہ سلسلہ کب تک کہاں تک تازہ دم رہتا معاً احساس جاگا ذہن ...

مزید پڑھیے

مچا کہرام کیوں ہے

مچا کہرام کیوں ہے گھر بدلنے پر ابھی بھی ہلکے کالے شیشے والی آنکھ پر عینک لگا کر حلقۂ یاراں میں وہ اکثر چہل قدمی کو آتا ہے سناتا ہے غزل اپنی کبھی تاروں کی جھرمٹ میں کبھی رستے میں شبنم کے کبھی خوشبو لپیٹے جسم پر دلکش فضاؤں میں کبھی بے حد چمکتی دھوپ کے پیپل کی چھاؤں میں ذرا سا چشم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 577 سے 960