شاعری

ایک انتہائی غیر جذباتی رپورٹ

سورج ڈھلتا ہے اور بم گرتا ہے اور بم گرتے ہیں سورج ڈھلنے سے سورج چڑھنے تک چڑھے ہوئے دن میں بھی ادھر ادھر بم گرتے رہتے ہیں لیکن کوئی چیخ سنائی نہیں دیتی پہلے دیتی تھی اب کوئی نہیں روتا گہرے گہرے گڑھے ہیں اور گڑھوں میں گلتا ہوا انسانی ماس ہے بچا کھچا اور چاروں جانب اینٹیں پتھر ...

مزید پڑھیے

ہسٹریا

وہ خاموش تھی اپنے دوزخ میں جلتی ہوئی نیلگوں پانیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی اک مچلتی ہوئی موج مہتاب کی سمت لپکی مگر ریت پر آ گری سیپ اگلتی ہوئی خامشی کے بھنور سے نکلتی ہوئی وہ ہنسی اور ہنسی بریزیر میں سے باہر پھسلتی ہوئی اب وہ لڑکی نہیں صرف انگڑائی تھی اک توانائی تھی نیم وا آنکھ ...

مزید پڑھیے

نوائے گمراہ شب

اے خواب خندہ تجھے تو میں ڈھونڈنے چلا تھا مجھے خبر ہی نہیں تھی تو میری انگلیوں میں کھلا ہوا ہے مرے صدف میں ترے ہی موتی ہیں میری جیبوں میں تیرے سکے کھنک رہے ہیں نوائے گمراہ دشت شب کے نجوم تیری ہتھیلیوں پر چہک رہے ہیں مرے خلا میں تمام سمتیں ترے خلا سے اتر رہی ہیں مجھے خبر ہی نہ تھی کہ ...

مزید پڑھیے

اپاہج دنوں کی ندامت

کھڑکیاں کھول دو ضبط کی کھڑکیاں کھول دو میں کھلوں جون کی دوپہر میں دسمبر کی شب میں سبھی موسموں کے کٹہرے میں اپنی نفی کا میں اثبات بن کر کھلوں خواہشوں نیند کی جنگلی جھاڑیوں اپنے ہی خون کی دلدلوں میں کھلوں بھائیوں کی پھٹی آستینوں میں بہنوں کے سجدوں میں ماں باپ کے بے زباں درد میں ...

مزید پڑھیے

ایک شرمندہ نظم

کن حرفوں کی تفہیم کروں کن رنگوں کی تجسیم کروں کس راہ چلوں اور چلتا جاؤں کھلا نہیں ابھی دروازہ تو کھلا نہیں کس پھول کی مدح لکھوں اے حرف سحر آثار اے یوم آزادی میں نے تو نہیں دیکھا ترے لمس سے کون سا سنگ گلاب ہوا آئنہ آب ہوا اس باغ میں کون سی مشت خاک کھلی خوشبو آزاد ہوئی بے بس اور سات ...

مزید پڑھیے

مجھے شام آئی ہے شہر میں

میں سفر میں ہوں مرے جسم پر ہیں ہزار رنگوں کی یورشیں کہیں سرخ پھول کھلا ہوا کہیں نیل ہے کہیں سبز رنگ ہے زہر کا مگر آئنہ شب شہر کا مری ڈھال ہے جو وصال ہے وہی اصل ہجر مثال ہے مرے سامنے وہی راستے وہی بام و در وہی سنگ ہیں وہی سولیاں مجھے شام آئی ہے شہر میں مجھے شام آئی ہے شہر میں جہاں ...

مزید پڑھیے

اشکوں میں دھنک

اس ریتیلے بدن کی جھلسی ہوئی رگوں میں ہے تیل کا تماشہ اور برف کی تہوں میں ہے سورجوں کا گریہ یا پانیوں کی دہشت یا خشک سالیاں ہیں مہتاب سے ٹپکتا تاریکیوں کا لاوا رخسار داغتا ہے اس صبح کا ستارا چڑیوں کے گھونسلوں میں بارود بانٹتا ہے ان چوٹیوں پہ پرچم انجان وادیوں کے اور وادیوں پہ ...

مزید پڑھیے

مراجعت

شام ہو عام سی شام ہو جس کی حد بندیوں میں قفس بھی ہوں اور آشیاں بھی ہواؤں کی آہٹ پہ کھلتے دریچے بھی ہوں آئینوں میں گھرے ننھے منے پرندوں کا رقص دم واپسیں ہر نفس پر بہ پر یورش رائیگاں بھی عام سی شام ہو لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں گھر کی دہلیز پر میری ماں مسکراتے ہوئے میرے ...

مزید پڑھیے

کہاں روزن بنائیں

وہی قسمیں شب نا معتبر کی وہی رسمیں ہیں شہر سنگ دل کی وہی دیوار‌ بے روزن کہ جس کو زبانیں دن ڈھلے تک چاٹتی ہیں کسے پوچھیں برون صحن کیا ہے کہاں کس کھیت میں گندم اگی ہے کہاں کس جھیل میں سورج گرا ہے کہاں ہیں تیری زرہیں میری ڈھالیں کہاں وہ چاند ہے جس کی طلب میں خلا میں پھینک دیں چہروں ...

مزید پڑھیے

اسرار

رات گہری مہیب خاموشی دل بھی چپ چاپ یوں دھڑکتا ہے جیسے درویش اپنے حجرے میں آسمانوں کو کھٹکاتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 561 سے 960