شاعری

محبت درد دیتی ہے

میں ہمیشہ سوچتی تھی آنسو اور درد ہمیں نفرتوں سے ہی ملتے ہیں اگر نفرتیں نہ ہوں تو یہ آنسو بھی نہ ہوں اور درد بھی نہ ہو مگر جب اس کی محبت کا چاہت کا اور اعتبار کا موسم بیتا تب آنکھیں کھلیں احساس ہوا کہ درد صرف نفرتوں میں ہی نہیں ہوتا محبت بھی انسان کو سراپا درد بنا دیتی ہے محبت درد ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ کیسا ہوتا ہے

جو بار آور نہیں ہوتا وہ لمحہ کیسا ہوتا ہے جو رنگ و خوشبوؤں کے آبگینے توڑ دیتا ہے جو یادوں کی کھلی آنکھوں کو اپنے سرد ہاتھوں کے اثر سے موند دیتا ہے جو دن کی روشنی میں شب کی آمیزش سے ایسی ساعتیں تخلیق کرتا ہے جو آسودہ ہی ہوتی ہیں نہ افسردہ ہی ہوتی ہیں کبھی ہنستی کبھی بے طرح روتی ...

مزید پڑھیے

تمہارے پھول تازہ ہیں

تمہارے پھول تازہ ہیں مری سب انگلیوں پر اگ رہے ہیں اور یہ شاخیں یہ میری انگلیاں کیسی ہری ہیں ان کی شریانوں میں بہتا رنگ پھولوں کے لبوں سے بہہ رہا ہے قطرہ قطرہ ایک بے موسم کہانی کہہ رہا ہے

مزید پڑھیے

اسی فطرت میں روشن ہیں

وہ ہنس مکھ اور حسیں لڑکی جو اب تک مجھ میں زندہ ہے نہیں بدلی ہے وہ اب تک اسی فطرت میں روشن ہے اسی حیرت میں زندہ ہے گزرتے وقت کے ہم رہ بہت منظر بدلتے ہیں ہوا کے رخ بدلتے ہیں ہماری ذات کے یوں تو سبھی موسم بدلتے ہیں نہیں بدلی ہے وہ اب تک وہ ہنس مکھ اور حسیں لڑکی مگر میں جانتی کب ہوں وہ ...

مزید پڑھیے

کشف

میں اپنی کھوج میں گم تھی کہ میں کیا ہوں ازل کے حادثے کا سلسلہ ہوں یا فقط مٹی کی مورت ہوں مسخر کرنے والا ذہن ہوں احساس کی دھیمی سجل آواز ہوں یا اپنے خالق کی کوئی ایسی ادا ہوں جو اسے خود بھا گئی ہے تمہیں پایا تو یہ جانا کہ میرا بھی کوئی مفہوم ہوگا تمہیں کھو کر مرے مفہوم کی صورت نکھر ...

مزید پڑھیے

نئے سوالوں کی بات کیجے

گئی رتوں کی کہانیاں ہیں نشانیاں ہیں وہی کھنڈر ہے وہی تماشائے عہد رفتہ یہ خم نیا ہے علم نیا ہے نئے سوالوں کی بات کیجے جواب دیجے کہ آنے والے سمے کا آئینہ آپ کو بھی اسی طرح منعکس کرے گا

مزید پڑھیے

دکھوں کی اپنی اک تفسیر ہوتی ہے

اندھیرے سے کشید صبح کی روشن گواہی مانگنے سے رات کے لمحے نہ گھٹتے ہیں نہ بڑھتے ہیں کبھی گہرے بھنور کے بیچ اٹھتی دوریوں کی دھند میں لپٹی کسی کی ساحلی آواز دریا کا کنارا بھی نہیں ہوتی دکھوں کی اپنی اک تفسیر ہوتی ہے جو اپنے لفظ خود ایجاد کرتی ہے جو خوابوں سے الجھتی ہے جو خوابوں سے ...

مزید پڑھیے

کبھی ایسا بھی کرنا

کبھی ایسا بھی کرنا شام کی دہلیز پر پل بھر کو رکنا ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا اور سوچنا کہ شام کی گہری اداسی کا سبب کیا ہے مسافر جب تھکا ہارا سر منزل کبھی تنہا اترتا ہے تو کیا محسوس کرتا ہے

مزید پڑھیے

مذہب انسانیت

ہندو مسلم سکھ عیسائی سب مل کر اک گیت لکھیں گے گیت کی دھن پر عہد کریں گے ساری نفرت بھول کے ہم اک ہو جائیں گے اک دوجے کے دکھڑوں میں ہم کھو جائیں گے تم بھی انساں ہم بھی انساں پیار ہی ہے ہم سب کا ایماں نیا مذہب تشکیل کریں گے اب نہ کوئی بت ہم پوجیں گے جگ میں انساں راج رہے گا یکجہتی کا تاج ...

مزید پڑھیے

نوحہ

زیست اور موت کی سرد و ویران سی دو قیامت نما سرحدیں اور پہلو میں ان سرحدوں کے وہ دھندلی سی بجھتی ہوئی اک لکیر جس کی دہلیز پر آخری سانس لیتے ہوئے روٹھ کر ہم سے کوئی جو اس مختصر فاصلے سے گزر جائے گا لوٹ کر وہ نہیں آئے گا سرد راتوں میں ہم اس کو آواز دیں تو جواباً ہمیں گونج کی صورت اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 56 سے 960