ندی کی فریاد

یہ گندگی ہے کیسی آئی ہے یہ کہاں سے
شہروں کی یہ غلاظت آئی ہے کیسے بہہ کے


دم گھٹ رہا ہے میرا بدبو ہے جان لیوا
گرتا ہے مجھ میں آ کے شہروں کا گندہ نالہ


پاکیزہ مجھ کو کر دو کر کے مری صفائی
میرا بھی فائدہ ہے انساں کی بھی بھلائی


تم مجھ کو صاف رکھ کے خود بھی سکھی رہو گے
پانی جو صاف ہوگا بیماری سے بچو گے


فریاد بے نوا کی سنتا نہیں ہے کوئی
سمجھے جو میرے دکھ کو ایسا نہیں ہے کوئی


اس گندگی سے لوگو جلدی مجھے نکالو
یہ نیک کام کر کے ماحول کو بچا لو