شاعری

گاندھی جینتی پر

اٹھی چاروں طرف سے جب کہ ظلم‌ و جبر کی آندھی پیام امن لے کر آ گئے روح زماں گاندھی بنے ہندوستاں کے واسطے وہ رہبر کامل توسل سے انہی کے پائی ہم نے اپنی خود منزل ہوئی روشن اجالے سے دیار ہند کی وادی جلائی اس طرح کی آپ نے اک شمع آزادی انہی نے جبر سے انگریز کے ہم کو چھڑایا تھا صداقت کا ...

مزید پڑھیے

ہولی کھیلنے کی فرمائش پر

ہے یہ احباب کو اصرار کہ ہولی کھیلوں توڑ دوں آج تو میں زہد و تقدس کا فسوں مست ہو کر میں پیوں جام شراب ہستی ہمہ تن بادۂ عشرت کے نشے میں جھوموں اپنی سنجیدہ روش اور اداسی چھوڑوں غم کے اصنام کو بت خانۂ دل میں توڑوں جل اٹھیں غم کے شبستاں میں مسرت کے چراغ بربط دل کے ہر اک تار کو پھر ...

مزید پڑھیے

ایسی منائیں ہولی

ہو کے سرشار بہت عشق سے گائیں ہولی اک نئے رنگ سے اپنوں کو سنائیں ہولی لے کے آئی ہے عجب مست ادائیں ہولی ملک میں آج نئے رخ سے دکھائیں ہولی آج ہر شخص کو دیتی ہے صدائیں ہولی دوستو آؤ چلو ایسی منائیں ہولی ملک سے فرقہ پرستی کو ہٹا ہی ڈالو دیر و کعبہ کے تفرقہ کو مٹا ہی ڈالو ہند کو دیش محبت ...

مزید پڑھیے

ترانۂ وطن

رشک فردوس ہے تیرا رنگیں چمن تجھ پہ گلباش کرتے ہیں کوہ و دمن تیرے ماتھے کی ریکھا ہیں گنگ و جمن تیری مٹی میں خوابیدہ ہیں فکر و فن فخر یونان تھی تیری بزم کہن میرے ہندستاں میرے پیارے وطن دیوتاؤں کی رشیوں کی یہ سرزمیں ذرہ ذرہ تری خاک کا ہے حسیں چومتا ہے قمر روز تیری جبیں تیرے جلوے نہ ...

مزید پڑھیے

چھبیس جنوری

گلشن میں رت نئی ہے ہر سمت بے خودی ہے ہر گل پہ تازگی ہے مسرور زندگی ہے سرچشمۂ خوشی ہے چھبیس جنوری ہے ہر سو خوشی ہے چھائی سب نے مراد پائی پھر جنوری یہ آئی یوم سرور لائی ساعت مراد کی ہے چھبیس جنوری ہے آنکھوں میں رنگ نو ہے باطل سے جنگ نو ہے ساز اور چنگ نو ہے ہر در پہ سنگ نو ہے پر کیف ...

مزید پڑھیے

دیوالی آئی

چار جانب ہے یہی شور دوالی آئی سال ماضی کی طرح لائی ہے خوشیاں امسال یوں تو ہر شخص مسرت سے کھلا جاتا ہے پھر بھی بچے ہوئے جاتے ہیں خوشی سے بے حال ہر بشر محو ہے اس جشن کی تیاری میں تاکہ خوشیوں کا قمر اور ضیا بخش ہے کر رہے ہیں سبھی مل جل کے صفائی گھر کی ان کی کوشش ہے کہ تابندہ ہر ایک نقش ...

مزید پڑھیے

تمہاری شاعرہ پاگل

تمہاری شاعرہ پاگل ہزاروں شعر لکھتی نظم اور غزلیں کہا کرتی ہمیشہ سوچتی رہتی کوئی کاغذ کا ٹکڑا ڈھونڈھتی اور دل کا سارا حال لکھ دیتی کہ اس کے پاس تو کتنے ہی لفظوں کا ذخیرہ تھا سیاہی سوکھ جاتی جب قلم خاموش ہو جاتے تو پھر آنسو سیاہی بنتے جاتے لفظ کب خاموش ہوتے تھے تمہاری شاعرہ ...

مزید پڑھیے

عشق

میں تری کھوج میں صحرا صحرا بھٹکتی رہی مدتوں ننگے پاؤں میں پھوٹے ہوئے آبلے جب سسکنے لگے ہونٹ پانی کی خاطر بلکنے لگے خشک ہونٹوں پہ اپنی زباں پھیرتے آسماں کی طرف آنکھ دوڑائی تو آنکھ سے چند آنسو ٹپک کر میرے کان کو ڈھانکتے میرے بالوں کی سوکھی لٹوں کو بھگوتے ہوئے کان میں جا گرے چیختے ...

مزید پڑھیے

موسم

بھیگے بھیگے موسم میں وہ تیکھے نقش اور نینوں والی اک لڑکی شرمیلی سی چھت پر آتی جاتی اپنے آنچل کو لہراتی تھی ہنستے ہنستے بارش میں وہ بھیگی زلفیں پھیلا کر جیسے رنگ اڑاتی تھی پھر سنگھار کی میز پہ وہ پہروں اپنی روشن روشن آنکھیں تکتی دانتوں میں پھر ہونٹ دبا کر اتراتی اور خود سے ہی ...

مزید پڑھیے

لوٹ آؤ سنو

درختوں سے پتوں کے جھڑنے کا موسم بھی ہے اور تمہاری کنولؔ باغ کے اک کنارے پہ بکھرے ہوئے سوکھتے ٹوٹتے زرد پتوں پہ چلتے ہوئے نظم اک مختصر لکھ رہی ہے تمہارے لیے اس کی آنکھوں سے بے رنگ بہتے ہوئے اشک جو لال ہونے کو تھے ہجر کا زہر پیتے ہوئے کاسنی ہو گئے اپنی زخمی سی پوروں سے چن کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 536 سے 960