کوہ ندا
ابھی کوہ ندا پر شور پھیلا ہے کسے آواز دیں کس کو پکاریں ہم ابھی سرسبز آوازوں کا موسم بھی نہیں آیا ابھی خاموشیوں کے ڈھیر سارے موم ہیں باقی جنہیں آواز کے زریں تصادم سے پگھلنا ہے کٹھالوں کے دہانوں سے گزر کر تہ بہ تہ جمنا بھی ہے ان کو مگر آواز کی ہلکی سی آہٹ بھی نہیں آتی نہ جانے کون سی ...