شاعری

کوہ ندا

ابھی کوہ ندا پر شور پھیلا ہے کسے آواز دیں کس کو پکاریں ہم ابھی سرسبز آوازوں کا موسم بھی نہیں آیا ابھی خاموشیوں کے ڈھیر سارے موم ہیں باقی جنہیں آواز کے زریں تصادم سے پگھلنا ہے کٹھالوں کے دہانوں سے گزر کر تہ بہ تہ جمنا بھی ہے ان کو مگر آواز کی ہلکی سی آہٹ بھی نہیں آتی نہ جانے کون سی ...

مزید پڑھیے

خواب

نہ جانے کون سی ساعت میں یہ گمان ہوا بعید خواب کے روزن سے جھانکتا ہے کوئی غنودہ ذہن کے آفاق ہو گئے روشن کسل کے ساتھ شعور زماں ہوا بیدار پس شعور جو بکھرے پڑے تھے مشکیزے طلوع ذات کے احساس سے ہوئے لبریز مگر وہ خواب جو غرق شعور تھے یکسر بساط چشم پہ جن کو ابھی ابھرنا تھا وہ سارے خواب ...

مزید پڑھیے

اے ستارو

رات کی نمناک زلفوں میں ابھی کاذب سویرا ہو رہا ہے اے ستارو کیا نہیں معلوم تم کو آج میں ایوان ہستی سے نکل کر خواب زار زندگی میں منتشر ہوں نیند کی باد صبا آنکھوں سے ہٹ کر بہہ رہی ہے میرے اندر روح جوئے کہکشاں ہے جس سے میری ہستیٔ ظاہر ہے تاباں ہستیٔ باطن کے روشن آسماں پر متقی انوار میں ...

مزید پڑھیے

خواب بیداری

کون ہے وہ جو گزرتا ہے فقط آنکھوں سے ہو کر آبنائے ذہن کی لہروں کو چھوتا اسپ آبی اور ستارہ مچھلیوں کو سات رنگوں کی قبائے خواب دیتا پھیل جاتا ہے وہ میرے سوچ ساگر کی تہوں میں کون ہے وہ جو مری شب ریز آنکھوں کو مجازی جال میں الجھا رہا ہے منظروں سے سچ کی موسیقی چرا کر منظروں کی روح کو بے ...

مزید پڑھیے

کینچلی

خداوندا مری مجہول فطرت پر منڈھی ہے کینچلی کیسی کہ جس پر ناخن تدبیر کا جادو نہیں چلتا سبھی آلات جراحی کو میں نے آزمایا ہے مگر وہ کینچلی ہے ہستیٔ خود کی عجب عاشق چپک کر رہ گئی ہے جو مرے ٹھنڈے مساموں سے خداوندا مری مجہول فطرت کو حقیقت آشنا کر دے سراپا آئینہ کر دے

مزید پڑھیے

نظم خیال

ناشنیدہ ساعتوں کا منتظر ہوں انگنت گزرے ہوئے لمحوں کی چیخیں نخل جاں کی سبز شاخوں میں سرایت کر چکی ہیں میرے اندر ایک ہنگامہ بپا ہے ایک ایسی بے خودی طاری ہے مجھ پر میں اگلتا جا رہا ہوں بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت سوچتا ہوں اپنی یہ پر شور ہستی اک غنائی چاپ کو سننے کی خاطر بے پنہ زخمی ...

مزید پڑھیے

عمر رفتہ کی نظم

تتلیاں خوش رنگ کتنی اڑ رہی ہیں ایک بچہ انگلیوں کا جال پھیلائے کھڑا ہے اور اس کی انگلیوں سے کتنی میٹھی خواہشیں لپٹی ہوئی ہیں اس کو ہے معلوم تتلی چوستی ہے ساغر گل سے شکرآمیز رس وہ منتظر ہے تتلیاں خوش رنگ آئیں گی یقیناً زیر دام

مزید پڑھیے

میں کہ اک بنی آدم

میں کہ اک بنی آدم عالم عناصر کا اک خمیر تازہ دم اک حیات مجھ میں ہے کائنات مجھ میں ہے میری سلطنت ہے سب مجھ سے ہے جہاں قائم میں ہوں گردش پیہم رو میں ہے لہو ہر دم کیا خبر لہو کیا ہے ایک شورش ہستی ایک داخلی طوفاں ایک محشر دوراں کیا خبر لہو کیا ہے گردشیں ستاروں کی گردش آسمانوں کی گردشیں ...

مزید پڑھیے

میں بالکل ٹھیک ہوں سوہنی

تمہارا ایک میسج واٹس ایپ پر مدتوں کے بعد آیا تھا یہ لکھا تھا کہ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا ذرا اس وقت کچھ سانسوں کی طغیانی سی برپا تھی مجھے کچھ دھڑکنوں کو بھی ذرا ترتیب دینا تھا موبائل اسکرین اس وقت دھندلی ہو گئی تھی کچھ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا سو سوری اے مری ...

مزید پڑھیے

عشق اسلحوں کی زد پر

میں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھ میرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہر سو یہ ہلال نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شاید یہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہے یاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دم انتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطراف جاں میں آتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 522 سے 960