شاعری

آپ بیتی

1 یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے شمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہے یاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزری کون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیر اک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزری کس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاں کاش میں ایسی کہانی کو سنا ...

مزید پڑھیے

خوابوں سے ڈر لگتا ہے

کل کا سورج اسی دہلیز پہ دیکھے گا مجھے کل بھی کشکول مرا شام کو بھر جائے گا کل کی تخلیق بھی ہوگی یہی اک نان جویں کل بھی ہر دن کی طرح یوں ہی گزر جائے گا بھوک کی آگ جو بجھتی ہے تو نیند آتی ہے نیند آتی ہے تو کچھ خواب دکھاتی ہے مجھے خواب میں ملتے ہیں کچھ لوگ بچھڑ جاتے ہیں ان کی یاد اور بھی ...

مزید پڑھیے

پچھلے جنم کی کتھائیں

مجھے کچھ نہیں گیان یہ زندگی کیا ہے؟ یہ موت کیا ہے؟ میں کتنے دنوں سے یہی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں، میں کیا نہیں ہوں مری عمر جس طرح گزری ہے اس کو بھی کیوں اک عمر کہئے یہ اک عمر میں تقسیم ہے اور ہر لمحہ ایک دوسرے سے جدا ہے جب اک لمحہ مرتا ہے تو دوسرا لمحہ تخلیق پاتا ہے پہلو میں آ کر مرے ...

مزید پڑھیے

کتبہ(۲)

یہ اس شخص کی قبر ہے جس کے اب جسم کا کوئی ذرہ یہاں پر نہیں ہے نہ اس کو کوئی کام اس قبر سے نہ اس کو خبر ہے کہ یہ کس کا گھر ہے تو اس شخص کے ایک بے نام گھر کو کوئی کیوں کسی نام سے آج منسوب کر دے اور اس نام کا ایک کتبہ بنائے یہ دنیا ہے جس میں نہ ایسا کوئی گھر بنا ہے نہ آگے بنے گا کہ اس کا مکیں ...

مزید پڑھیے

بدلتے موسم

وہی پیارے مدھر الفاظ میٹھی رس بھری باتیں وہی روشن روپہلے دن وہی مہکی ہوئی راتیں وہی میرا یہ کہنا تم بہت ہی خوبصورت ہو تمہارے لب پہ یہ فقرہ کہ تم ہی میری قسمت ہو وہی میرا پرانا گیت تم بن جی نہیں سکتا میں ان ہونٹوں کی پی کر اب کوئی مے پی نہیں سکتا یہ سب کچھ ٹھیک ہے پر اس سے جی گھبرا ...

مزید پڑھیے

بن باس

میں کہ خود اپنی ہی آواز کے شعلوں کا اسیر میں کہ خود اپنی ہی زنجیر کا زندانی ہوں کون سمجھے گا جہاں میں مرے زخموں کا حساب کس کو خوش آئے گا اس دہر میں روحوں کا عذاب کون آ کر مرے مٹنے کا تماشا دیکھے کس کو فرصت کہ اجڑتی ہوئی دنیا دیکھے کون بھڑکی ہوئی اس آگ کو اپنائے گا جو بھی آئے گا مرے ...

مزید پڑھیے

سودا گر

لو گجر بج گیا صبح ہونے کو ہے دن نکلتے ہی اب میں چلا جاؤں گا اجنبی شاہراہوں پہ پھر کاسۂ چشم لے لے کے ایک ایک چہرہ تکوں گا دفتروں کارخانوں میں تعلیم گاہوں میں جا کر اپنی قیمت لگانے کی کوشش کروں گا میری آرام جاں مجھ کو اک بار پھر دیکھ لو آج کی شام لوٹوں گا جب بیچ کر اپنے شفاف دل کا ...

مزید پڑھیے

سایۂ دیوار

کیسا سنسان ہے دشت آوارگی ہر طرف دھوپ ہے ہر طرف تشنگی کیسی بے جان ہے مے کدے کی فضا جسم کی سنسنی روح کی خستگی اس دوراہے پہ کھوئے گئے حوصلے اس اندھیرے میں گم ہو گئی زندگی اے غم آرزو میں بہت تھک گیا مجھ کو دے دے وہی میری اپنی گلی چھوٹا موٹا مگر خوبصورت سا گھر گھر کے آنگن میں خوشبو سی ...

مزید پڑھیے

نظم

نہ جانے کتنے دن گزرے نہ کوئی کال نہ میسج نہ کوئی رابطہ رکھا تمہیں میں یاد تو ہوں نا یا مجھ کو بھول بیٹھے ہو کہاں اپنا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ارادہ تھا کہ چاہے جو بھی ہو جائے کبھی بھی ہم نہ بچھڑیں گے تمہارا بھی تو وعدہ تھا تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میں میں شب بھر جاگتا اور ...

مزید پڑھیے

بے نام اداسی

وہ ایک بے نام سی اداسی جو ایک مدت سے شام ڈھلتے ہی پھاٹکوں اور کھڑکیوں سے ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہمارے کمرے میں آ رہی تھی کہاں گئی وہ

مزید پڑھیے
صفحہ 521 سے 960