آپ بیتی
1 یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے شمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہے یاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزری کون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیر اک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزری کس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاں کاش میں ایسی کہانی کو سنا ...