نظم خیال

ناشنیدہ ساعتوں کا منتظر ہوں
انگنت گزرے ہوئے لمحوں کی چیخیں
نخل جاں کی سبز شاخوں میں سرایت کر چکی ہیں
میرے اندر ایک ہنگامہ بپا ہے
ایک ایسی بے خودی طاری ہے مجھ پر
میں اگلتا جا رہا ہوں
بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت
سوچتا ہوں
اپنی یہ پر شور ہستی
اک غنائی چاپ کو سننے کی خاطر
بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت سہہ رہی ہے
یا مرے موجود کی حساس جہتوں میں مسلسل
وقت کا سیمرغ اپنے بادباں کی
ساری گرہیں کھولتا ہی جا رہا ہے
خواب زار وقت میں کتنے ہی بے ساماں سیسیفس
ناشنیدہ ساعتوں کی سربلندی چاہتے ہیں
جن کی آنکھوں میں ابھی
نیندوں کی بارش ہو رہی ہے
اور اک کوہ تصور کی بلندی
ذات کے گہراؤ کی جانب لڑھکتی جا رہی ہے
میرے شانوں کے کٹورے جل اٹھے ہیں
میں اگلتا جا رہا ہوں
بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت